(١٩١٣٤) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَنَہَی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّخْعِ وَأَنْ تُعْجَلَ الأَنْفُسُ أَنْ تُزْہَقَ
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَالنَّخْعُ أَنْ تُذْبَحَ الشَّاۃُ ثُمَّ یُکْسَرَ قَفَاہَا مِنْ مَوْضِعِ الْمَذْبَحِ لِنَخْعِہِ وَلِمَکَانِ الْکِسَرِ فِیہِ أَوْ تُضْرَبَ لِیُعَجَّلَ قَطْعُ حَرَکَتِہَا فَأَکْرَہُ ہَذَا وَقَالَ : وَلَمْ یُحَرِّمْہَا ذَلِکَ لأَنَّہَا ذَکِیَّۃٌ۔ [صحیح ]
(١٩١٣٤) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ذبح کرتے وقت چھری کو حرام مغز تک لے جانے سے منع فرمایا کہ اس طرح جان بغیر دشواری کے نکل جاتی ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : نخع یہ ہوتا ہے کہ بکری کو ذبح کرنے کے بعد ذبح شدہ جگہ سے گردن کو موڑ دیا جائے، تاکہ اس کی حرکت جلد ختم ہوجائے۔ فرماتے ہیں : اس طرح کرنے سے حرام نہیں ہوجاتا بلکہ اس کو ذبح کے اندر شمار کیا جائے گا۔