(١٩١٩٠) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَبُو الشَّیْخِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی الأَلْثَغُ الْمَخْرَمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحِیمِ عَنِ الْجَہْمِ بْنِ جَارُودٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَہْدَی بُخْتِیَّۃً لَہُ قَدْ أَعْطَی بِہَا ثَلاَثَمِائَۃِ دِینَارٍ فَأَرَادَ أَنْ یَبِیعَہَا وَیَشْتَرِیَ بِثَمَنِہَا بُدْنًا فَسَأَلَ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنْ ذَلِکَ فَأَمْرَہُ أَنْ یَنْحَرَہَا وَلاَ یَبِیعَہَا کَذَا قَالَ بُخْتِیَّۃً لَہُ ۔ [صحیح ]
(١٩١٩١) سالم بن عبداللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ایک بختی اونٹ قربانی کے لیے خریدا، جس کی قیمت تین سو دینار تھی۔ انھوں نے اسے فروخت کر کے اس کی قیمت کی قربانی خریدنا چاہی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی اونٹ کو نحر کرنے کا حکم دیا اور اس کو فروخت کرنے کی اجازت نہ دی۔