(١٩٣٣٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ زَیْدِ بْنِ أَبِی الزَّرْقَائِ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ضَرَبَ ابْنًا لَہُ یُکْنَی أَبَا عِیسَی وَأَنَّ الْمُغِیرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ تَکَنَّی بِأَبِی عِیسَی فَقَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَمَا یَکْفِیکَ أَنْ تُکْنَی بِأَبِی عَبْدِ اللَّہِ ؟ فَقَالَ : رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَنَّانِی فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَدْ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ وَمَا تَأَخَّرَ وَإِنَّا فِی جَلْجَبِیَّتِنَا فَلَمْ یَزَلْ یُکْنَی بِأَبِی عَبْدِ اللَّہِ حَتَّی ہَلَکَ ۔ [صحیح ]
(١٩٣٣٢) زید بن اسلم اپنیوالد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اپنے بیٹے کو ابو عیسیٰ کنیت رکھنیپر مارا اور مغیرہ بن شعبہ نے اپنی کنیت ابو عیسیٰ رکھی تو حضرت عمر (رض) کہنے لگے : کیا آپ کو ابو عبداللہ کنیت رکھ لینا کافی نہ تھا ؟ اس نے کہا : رسول اللہ نے میری کنیت رکھی تھی۔ کہنے لگے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلے اور پچھے گناہ معاف کر د کے گئی اور پھر ہم اپنی وفات تک ان کی کنیت ابو عبداللہ ہی رہی۔