(١٩٣٣٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ وَجَعْفَرُ بْنُ مِہْرَانَ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَبِی التَّیَّاحِ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا کَانَ لِی أَخٌ یُقَالُ لَہُ أَبُو عُمَیْرٍ أَحْسِبُہُ قَالَ کَانَ فَطِیمًا قَالَ فَکَانَ إِذَا جَائَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَرَآہُ قَالَ : أَبَا عُمَیْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَیْرُ ؟ ۔ قَالَ وَکَانَ یَلْعَبُ بِہِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ شَیْبَانَ بْنِ فَرُّوخٍ وَعَنْ أَبِی الرَّبِیعِ ۔ [صحیح ]
(١٩٣٣٣) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے۔ میرا ایک بھائی جس کا نام ابو عمیر تھا۔ اس کا دودھ چھڑوایا گیا۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس آتے تو پوچھتے : اے ابو عمیر ! تیری چڑیا کا کیا بنا ؟ راوی کہتے ہیں کہ وہ اس چڑیا کے ساتھ کھیلا کرتا تھا۔