(١٩٤٢٢) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ بِمَعْنَی ہَذَا الْحَدِیثِ قَالَ أَبُو سَعِیدٍ : فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذَلِکَ قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : إِنَّ اللَّہَ لَیَنْفَعُ بِہِ غَیْرَ وَاحِدٍ وَإِنَّہُ لَطَعَامُ عَامَّۃِ ہَذِہِ الرِّعَائِ وَلَوْ کَانَ عِنْدِی لَطَعِمْتُہُ إِنَّمَا عَافَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی۔ [صحیح۔ مسلم ١٩٥١]
(١٩٤٢٢) ابو سعید فرماتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت عمر (رض) نے کھڑے ہو کر فرمایا : اس کے ذریعہ اللہ کسی کو نفع دے گا۔ کیونکہ یہ عام لوگوں کا کھانا ہے۔ اگر میرے پاس موجود ہوتی تو میں کھا لیتا لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ناپسند کرتے ہوئے چھوڑ دیا۔