(١٩٤٥٩) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی الأَسَدِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الزُّبَیْرِ الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ زَیْدٍ : إِنَّہُمْ یَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَہَی عَنْ لُحُومَ الْحُمُرِ الأَہْلِیَّۃِ زَمَنَ خَیْبَرَ قَالَ : قَدْ کَانَ یَقُولُ ذَلِکَ الْحَکَمُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَلَکِنْ أَبَی ذَلِکَ الْبَحْرُ یَعْنِی ابْنَ عَبَّاسٍ وَقَرَأَ { قُلْ لاَ أَجِدُ فِیمَا أُوحِیَ إِلَیَّ مُحَرَّمًا } [الأنعام ١٤٥] الآیَۃَ وَقَدْ کَانَ أَہْلُ الْجَاہِلِیَّۃِ یَتْرُکُونَ أَشْیَائَ تَقَذُّرًا فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی کِتَابَہُ وَبَیَّنَ حَلاَلَہُ وَحَرَامَہُ فَمَا أَحَلَّ فَہُوَ حَلاَلٌ وَمَا حَرَّمَ فَہُوَ حَرَامٌ وَمَا سَکَتَ عَنْہُ فَہُوَ عَفْوٌ ثُمَّ تَلاَ ہَذِہِ الآیَۃَ { قُلْ لاَ أَجِدُ فِیمَا أُوحِیَ إِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلَی طَاعِمٍ یَطْعَمُہُ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ مَیْتَۃً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِیرٍ } [الأنعام ١٤٥] فَقَدْ أَخْرَجَ الْبُخَارِیُّ أَوَّلَہُ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ عَنْ سُفْیَانَ ۔ وَلَوْ عَلِمَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَرَّمَہُ تَحْرِیمًا لَمْ یَصِرْ إِلَی غَیْرِہِ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَعْلَمْہُ ۔ [صحیح ]
(١٩٤٥٩) جابر بن زید (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا۔ راوی کہتے ہیں : حکم بن عمرو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح فرماتے ہیں، لیکن ابن عباس (رض) نے اس کا انکار کیا ہے اور یہ آیت تلاوت کی { قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا } [الأنعام ١٤٥] میں اللہ رب العزت کی جانب سے اس کو حرام نہیں پاتا کہ بعض چیزیں جاہلیت والے ناپسند کرتے ہوئے چھوڑ دیتے تھے تو اللہ رب العزت نے حلال اور حرام کو بالکل واضح کردیا۔ اللہ کی حلال کردہ چیز حلال ہے اور حرام کردہ چیز حرام اور جس سے خاموشی اختیار کی گئی اس سے درگزر ہے۔ پھر اس آیت کی تلاوت کی : { قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗٓ اِلَّآ اَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً اَوْدَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ } [الأنعام ١٤٥] ” کہہ دیجیے : اللہ کی وحی میں میں حرام نہیں پاتا کھانے والے پر مگر مردار یا بہایا ہوا خون یا خنزیر کا گوشت۔ (ب) سفیان فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کو علم نہ تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو حرام قرار دیا ہے۔ وگرنہ وہ کسی دوسری چیز پر اصرار نہ کرتے۔