(١٩٤٦٠) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَامِرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : لاَ أَدْرِی أَنَہَی عَنْہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ أَجْلِ أَنَّہُ کَانَ حَمُولَۃَ النَّاسِ فَکَرِہَ أَنْ تَذْہَبَ حَمُولَتُہُمْ أَوْ حَرَّمَہُ فِی یَوْمِ خَیْبَرَ لَحْمَ الْحُمُرِ الأَہْلِیَّۃِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی الْحُسَیْنِ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُوسُفَ الأَزْدِیِّ ۔ [صحیح ]
(١٩٤٦٠) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کے سواری کرنے کی وجہ سے منع کیا ہو کہ ان کی سواریاں ختم ہوجائیں گی یا خیبر کے دن گھریلو گدھے کے گوشت کو حرام قرار دیا ہے۔