(١٩٦٣٨) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِیَّۃَ عَنْ أَبِی وَاقِدٍ اللَّیْثِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَجُلاً قَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا نَکُونُ بِالأَرْضِ فَتُصِیبُنَا بِہَا الْمَخْمَصَۃُ فَمَتَی تَحِلُّ لَنَا الْمَیْتَۃُ ؟ فَقَالَ : مَا لَمْ تَصْطَبِحُوا أَوْ تَغْتَبِقُوا أَوْ تَحْتَفِئُوا بِہَا بَقْلاً فَشَأْنَکُمْ بِہَا ۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ قَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ : ہُوَ مِنَ الْحَفَإِ وَہُوَ مَہْمُوزٌ مَقْصُورٌ وَہُوَ أَصْلُ الْبَرْدِیِّ الأَبْیَضِ الرَّطْبِ مِنْہُ وَہُوَ یُؤْکَلُ فَتَأَوَّلَہُ فِی قَوْلِہِ تَحْتَفِئُوا یَقُولُ : مَا لَمْ تَقْتَلِعُوا ہَذَا بِعَیْنِہِ فَتَأْکُلُوہُ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ وَأَمَّا قَوْلُہُ : مَا لَمْ تَصْطَبِحُوا أوْ تَغْتَبِقُوا ۔ فَإِنَّہُ یَقُولُ إِنَّمَا لَکُمْ مِنْہَا الصَّبُوحُ وَہُوَ الْغَدَائُ وَالْغَبُوقُ وَہُوَ الْعِشَائُ یَقُولُ فَلَیْسَ لَکُمْ أَنْ تَجْمَعُوہُمَا مِنَ الْمَیْتَۃِ ۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ : رَأَیْتُ عِنْدَ الْحَسَنِ کُتُبَ سَمُرَۃَ لِبَنِیہِ إِنَّہُ یُجْزِئُ مِنَ الاِضْطِرَارِ أَوِ الضَّارُورَۃِ صَبُوحٌ أَوْ غَبُوقٌ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : ہَذَا التَّفْسِیرُ الَّذِی فَسَّرَہُ أَبُو عُبَیْدٍ رَحِمَہُ اللَّہُ صَحِیحٌ لِمَا حَدَّثَ عَنْ کِتَابِ سَمُرَۃَ فَأَمَّا الْخَبَرُ الْمَرْفُوعُ فَقَدْ قِیلَ یُحْتَمَلُ أَنَّہُ إِنَّمَا قُصِدَ بِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ إِحْلاَلَ الْمَیْتَۃِ لَہُمْ مَتَی مَا لَمْ یَکُنْ لَہُمْ مِنَ الْحَلاَلِ صَبُوحٌ أَوْ غَبُوقٌ أَوْ بَقْلَۃٌ یَعِیشُونَ بِأَکْلِہَا وَہَذَا ہُوَ الَّذِی یَلِیقُ بِسُؤَالِہِمْ فِی رِوَایَۃِ أَبِی عُبَیْدٍ مَتَی تَحِلُّ لَنَا الْمَیْتَۃُ وَبِقَوْلِہِ أَوْ تَحْتَفِئُوا بِہَا بْقَلاً ۔ [صحیح ]
(١٩٦٣٨) ابو واقد لیثی فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہمیں کسی علاقہ میں بھوک پریشان کرتی ہے ہمارے لیے مردار کب حلال ہے ؟ فرمایا : جب صبح یا شام کے وقت کھانا یا سبزیاں نہ پاؤ۔ پھر تمہاری جو حالت ہو۔
ابو عبید کہتے ہیں کہ جفاء سے مراد تر کھجور جس کو کھایا جاتا ہے، یعنی صبح شام دونوں مردار کھانے کو جمع نہ کرو۔
ابو عبید کہتے ہیں کہ میں نے حسن کو دیکھا ۔ انھوں نے سمرہ کے بیٹے کو خط لکھ کردیا کہ بوقت مجبوری یا ضرورت یہ چیز انسان کو کفایت کر جائے گی۔
شیخ فرماتے ہیں : مردار تب حلال ہے جب صبح و شام حلال کھانا میسر نہ ہو جس کے ذریعہ زندگی گزاری جاسکے۔