(١٩٦٦٢) أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ أَبِی خَلَفٍ الصُّوفِیُّ الإِسْفَرَائِینِیُّ بِہَا حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ یَزْدَادَ بْنِ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ عَنْ أَیُّوبَ بْنِ یَحْیَی الرَّازِیِّ أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ الْخُرَاسَانِیُّ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی أَنْبَأَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِی جُبَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : کُنْتُ أَرْمِی نَخْلاً لِلأَنْصَارِ فَأَخَذُونِی فَذَہَبُوا بِی إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالُوا إِنَّ ہَذَا یَرْمِی نَخْلَنَا فَقَالَ : یَا رَافِعُ لِمَ تَرْمِی نَخْلَہُمْ ۔ قُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَجُوعُ قَالَ : لاَ تَرْمِ وَکُلْ مِمَّا یَقَعُ أَشْبَعَکَ اللَّہُ وَرَوَاکَ ۔ [ضعیف ]
(١٩٦٦٢) رافع بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ میں انصار کی کھجوروں کو پتھر مار رہا تھا۔ وہ مجھے پکڑ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے گئے اور کہنے لگے : یہ ہماری کھجوروں کو پتھر مار رہا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے رافع ! تم ان کی کھجوروں کو پتھر کیوں مار رہے تھے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! بھوکا تھا۔ آپ نے فرمایا : پتھر نہ مارو بلکہ نیچے گرے ہوئے کھالیا کرو۔ اللہ آپ کو سیر اور سیراب کرے۔