(۱۹۸۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْمُنْذِرُ بْنُ الْوَلِیدِ الْجَارُودِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ الأَخْنَسِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ نَذْرَ وَلاَ یَمِینَ فِیمَا لاَ یَمْلِکُ ابْنُ آدَمَ وَلاَ فِی مَعْصِیَۃِ اللَّہِ وَلاَ فِی قَطِیعَۃِ رَحِمِہِ وَمَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ فَرَأَی غَیْرَہَا خَیْرًا مِنْہَا فَلْیَدَعْہَا وَلْیَأْتِ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ فَإِنَّ تَرْکَہَا کَفَّارَتُہَا ۔ [منکر]
(١٩٨٥٩) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس میں نذر اور قسم نہیں جس کا ابن آدم مالک نہیں ہے اور اللہ کی نافرمانی، قطع رحمی میں بھی قسم نہیں اور جو کوئی قسم اٹھائے اور دوسرا کام اس سے بہتر ہو تو قسم کو چھوڑ دے۔ قسم کا چھوڑنا ہی اس کا کفارہ ہے۔