(۱۹۹۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ الْخُزَاعِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو شُعَیْبٍ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنِی ہِلاَلٌ الْوَزَّانُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِی لَیْلَی قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ احْمِلْنِی فَقَالَ وَاللَّہِ لاَ أَحْمِلُکَ فَقَالَ وَاللَّہِ لَتَحْمِلَنِّی قَالَ وَاللَّہِ لاَ أَحْمِلُکَ قَالَ وَاللَّہِ لَتَحْمِلَنِّی إِنِّی ابْنُ سَبِیلٍ قَدْ آدَتْ بِی رَاحِلَتِی فَقَالَ وَاللَّہِ لاَ أَحْمِلُکَ حَتَّی حَلَفَ نَحْوًا مِنْ عِشْرِینَ یَمِینًا قَالَ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ مَا لَکَ وَلأَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ قَالَ وَاللَّہِ لِیَحْمِلَنِّی إِنِّی ابْنُ سَبِیلٍ قَدْ آدَتْ بِی رَاحِلَتِی قَالَ فَقَالَ عُمَرُ وَاللَّہِ لأَحْمِلَنَّکَ ثُمَّ وَاللَّہِ لأَحْمِلَنَّکَ قَالَ فَحَمَلَہُ ثُمَّ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ فَرَأَی غَیْرَہَا خَیْرًا مِنْہَا فَلْیَأْتِ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ وَلْیُکَفِّرْ عَنْ یَمِینِہِ۔ قَالَ عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ ہَذَا حَدِیثٌ غَرِیبٌ الْکَفَّارَۃُ وَاحِدَۃٌ۔
قَالَ الشَّیْخُ لَیْسَ ذَلِکَ بِبَیِّنٍ فِی الْحَدِیثِ۔ وَیُذْکَرُ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ أَقْسَمَ مِرَارًا فَکَفَّرَ کَفَّارَۃً وَاحِدَۃً وَرُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی تَوْکِیدِ الْیَمِینِ وَہُوَ تَکْرِیرُہَا فِی الشَّیْئِ الْوَاحِدِ مَذْہَبٌ آخَرُ۔ [ضعیف]
(١٩٩٧٩) ہلال وزان کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی یعلیٰ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر (رض) کے پاس آیا اور کہا : اے امیرالمومنین ! مجھے سواری دیں۔ انھوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تجھے سواری نہ دوں گا۔ اس نے کہا : ضرور آپ مجھے سواری دیں گے۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں سواری نہ دوں گا۔ اس نے دوبارہ کہا : آپ ضرور مجھے سواری دیں گے، میں مسافر ہوں، میری سواری تھک چکی ہے۔ حضرت عمر (رض) فرمانے لگے : میں تجھے سواری نہ دوں گا اللہ کی قسم ! یہاں تک کہ انھوں نے بیس کے قریب قسم کھا لیں۔
اس سے ایک انصاری آدمی نے کہا : تجھے کیا ہے امیرالمومنین سے ؟ وہ کہنے لگا : میں مسافر ہوں، میری سواری عاجز آچکی، ان کو چاہیے کہ وہ مجھے سواری دیں، لیکن وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! میں تجھے سواری نہ دوں گا۔
راوی کہتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے پھر سواری دے دی۔ پھر فرمایا : جو کسی کام پر قسم کھالے اور دوسر اس سے بہتر ہو تو قسم کا کفارہ دے کر بہترکام کرلے۔ علی بن مدینی فرماتے ہیں کہ کفارہ ایک ہی ہے۔
(ب) شیخ فرماتے ہیں اس میں یہ دلیل موجود نہیں ہے، لیکن ابن عمر (رض) بھی فرماتے ہیں کہ اس طرح کی قسم میں کفارہ ایک دفعہ ہی ہے۔