(۱۹۹۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَنْبَأَنَا سَلَمَۃُ بْنُ عَلْقَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ : أَنَّ أَبَا مُوسَی الأَشْعَرِیَّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ فَکَفَّرَ وَأَمَرَ بِالْمَسَاکِینِ فَأُدْخِلُوا بَیْتَ الْمَالِ فَأَمَرَ بِجَفْنَۃٍ مِنْ ثَرِیدٍ فَقُدِّمَتْ إِلَیْہِمْ فَأَکَلُوا ثُمَّ کَسَا کُلَّ إِنْسَانٍ مِنْہُمْ ثَوْبًا إِمَّا مُعَقَّدًا وَإِمَّا ظَہْرَانِیًّا۔
قَالَ الشَّیْخُ وَکَأَنَّہُ لَمْ یَرَ الْکَفَّارَۃَ بِمَا أَعْطَاہُمْ مِنَ الثَّرِیدِ مُجْزِیَۃً فَأَعْطَی کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمْ ثَوْبًا۔
وَرُوِیَ عَنْ زَہْدَمٍ الْجَرْمِیِّ عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ حَلَفَ فَأَعْطَی عَشْرَۃَ مَسَاکِینَ عَشْرَۃَ أَثْوَابٍ لِکُلِّ مِسْکِینٍ ثَوْبًا مِنْ مُعَقَّدِ ہَجَرَ۔ [ضعیف]
(١٩٩٨١) محمد بن سیرین حضرت ابوموسیٰ اشعری سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے کسی بھلائی کے کام پر قسم اٹھائی تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا اور مسکینوں کو بیت المال میں داخل ہونے کا حکم دیا۔ ایک ثرید کا پیالہ لانے کا حکم فرمایا ، جوان کے سامنے پیش کیا گیا۔ انھوں نے اس سے کھایا۔ پھر ہر انسان کو پہنایا یا تو اوپر پہننے والا یا ازار عطا فرمائے۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں : انھوں نے ثرید کو کفارہ میں کافی نہیں سمجھا بلکہ ہر ایک کو کپڑے بھی پہنائے۔
(ب) زہدم اجرمی حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے اپنی قسم کے کفارے میں دس مسکینوں کو کپڑے عطاء کیے ہر مسکین کو معقد ھجر کے بنے ہوئے دس دس کپڑے۔