(۲۰۱۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَحْمَدَ الْبَسْطَامِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَیْسَرَۃَ الْقَوَارِیرِیُّ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَزِیدَ أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَّائُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ الأَخْنَسِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مَرُّوا بِحَیٍّ مِنْ أَحْیَائِ الْعَرَبِ وَفِیہِمْ لَدِیغٌ أَوْ سَلِیمٌ فَقَالُوا: ہَلْ فِیکُمْ مِنْ رَاقٍ ، فَإِنَّ فِی الْمَائِ لَدِیغًا أَوْ سَلِیمًا ، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْہُمْ فَرَقَاہُ عَلَی شَائٍ فَبَرَأَ ، فَلَمَّا أَتَی أَصْحَابَہُ کَرِہُوا ذَلِکَ وَقَالُوا: أَخَذْتَ عَلَی کِتَابِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ أَجْرًا۔ فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرَہُ بِذَلِکَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا کِتَابُ اللَّہِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سِیدَانَ بْنِ مُضَارِبٍ عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ۔
وَرُوِّینَا فِی حَدِیثِ أَبِی مَحْذُورَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- دَعَاہُ حِینَ قَضَی التَّأْذِینَ فَأَعْطَاہُ صُرَّۃً فِیہَا شَیْئٌ مِنْ فِضَّۃٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۱۵۶]
(٢٠١٩) (الف) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ صحابہ کرام کی ایک جماعت عرب کے کسی قبیلے کے پاس سے گزری اور ان کے پاس بچھو کا ڈسا ہوا ایک شخص لایا گیا یا وہ سخت زخمی تھا۔ انھوں نے پوچھا : کیا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے ؟ پانی میں بچھو ڈسا ہے یا فرمایا : یہ سخت زخمی ہے۔ ان میں ایک شخص اٹھا اور اس نے بکریوں کے عوض دم کیا تو وہ صحیح ہوگیا، جب وہ اپنے ساتھیوں کے پاس آیا انھوں نے اس کو ناپسند سمجھا اور کہا : تم نے اللہ کی کتاب پر مزدوری لی ہے، وہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پاس آئے تو انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر دی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زیادہ حق دارجس پر تم مزدوری لو اللہ کی کتاب ہے۔
(ب) سیدنا ابو محذورہ (رض) کی حدیث میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں بلایا، جس وقت انھوں نے پوری اذان دی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ایک تھیلی دی، اس میں کچھ چاندی تھی۔