(۲۰۲۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ : کَانَ قَعْنَبٌ التَّمِیمِیُّ قَدْ دَعَاہُ وَالٍ فَوَلاَّہُ الْقَضَائَ فَأَبَی عَلَیْہِ فَلَمْ یَزَلْ بِہِ حَتَّی قَبِلَ فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِہِ بِعَہْدِہِ رَمَی بِہِ وَتَوَارَی قَالَ فَأَرْسَلَ الْوَالِی فِی طَلَبِہِ فَبَیْنَمَا ہُمْ یَطْلُبُونَہُ إِذْ سَقَطَ عَلَیْہِ الْبَیْتُ الَّذِی کَانَ فِیہِ مُتَوَارِیًا فَلَمْ یَشْعُرُوا إِلاَّ وَقَدْ خَرَجَ عَلَیْہِمْ بِجَنَازَتِہِ۔ [حسن]
(٢٠٢٣٥) سفیان فرماتے ہیں کہ قعنب تیمی کو والی نے بلایا اور اس کو قضاۃ کا عہدہ دینے لگے تو اس نے انکار کردیا۔ بار بار اصرار کے بعد عہدہ دے دیا گیا۔ جب ان کے پاس سے نکلے تو عہدہ چھوڑ دیا اور چھپ گئے تو امیر نے اس کی تلاش میں آدمی روانہ کیے۔ وہ تلاش کر رہے تھے کہ گھر کی چھت گر پڑی جس کے اندر وہ چھپے ہوئے تھے، ان کو پتہ بھی نہ تھا۔ اس وقت پتہ چلا جب اس کا جنازہ لایا گیا۔