(۲۰۲۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَنْبَأَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَنْبَأَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی ثَوْرٍ وَعَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قِصَّۃِ الْمَرْأَتَیْنِ اللَّتَیْنِ تَظَاہَرَتَا قَالَ : فَجِئْتُ الْمَشْرُبَۃَ الَّتِی فِیہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ لِغُلاَمٍ لَہُ أَسْوَدَ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ الْغُلاَمُ فَکَلَّمَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ رَجَعَ إِلَیَّ فَقَالَ کَلَّمْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَذَکَرْتُکَ لَہَ فَصَمَتَ فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ مَعَ الرَّہْطِ الَّذِینَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ ثُمَّ غَلَبَنِی مَا أَجِدُ فَجِئْتُ الْغُلاَمَ فَقُلْتُ لَہُ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَدَخَلَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَیَّ فَقَالَ قَدْ ذَکَرْتُکَ لَہُ فَصَمَتَ قَالَ فَلَمَّا وَلَّیْتُ مُنْصَرِفًا إِذَا الْغُلاَمُ یَدْعُونِی فَقَالَ قَدْ أَذِنَ لَکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَدَخَلْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ فَإِذَا ہُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَی رِمَالِ حَصِیرٍ لَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ فِرَاشٌ قَدْ أَثَّرَ الرِّمَالُ بِجَنْبِہِ مُتَّکِئٌ عَلَی وِسَادَۃٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُہَا اللِّیْفُ۔
وَذَکَرَ الْحَدِیثَ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(٢٠٢٥٩) عبداللہ بن عباس (رض) حضرت عمر (رض) سے ان دو عورتوں کے قصی کے بارے میں جنہوں نے ظہار کیا تھا، فرماتے ہیں کہ میں اس بالاخانے پر آیا، جہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے۔ میں نے آپ کے غلام اسود سیکہا : حضرت عمر (رض) کے لیے اجازت مانگوں، غلام داخل ہوا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کی۔ پھر واپس میری طرف پلٹا۔ اس نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آپ کا تذکرہ کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے، میں واپس آکر اس گروہ کے پاس بیٹھ گیا، جو منبر کے پاس تھے۔ پھر میری ضرورت غالب آئی تو دوبارہ غلام سے کہا : عمر کے لیے اجازت طلب کرو۔ غلام داخل ہوا۔ آپ کے سامنے تذکرہ کیا، آپ خاموش رہے۔ کہتے ہیں : جب میں واپس مڑ کر جانے لگا تو غلام نے پیچھے سے آواز دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ میں داخل ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ درمیان میں کوئی ستر نہ تھا۔ چٹائی کے نشانات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلو پر تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، جو کھجور کے پتوں سے بھرا ہوا تھا۔