hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 20266

.

سنن البيهقي

20266
Sunan Al Bayhaqi
(۲۰۲۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُکَیْرٍ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ قَالَ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِیُّ وَکَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ذَکَرَ لِی ذِکْرًا مِنْ حَدِیثِہِ ذَلِکَ فَانْطَلَقْتُ حَتَّی دَخَلْتُ عَلَی مَالِکِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ فَسَأَلْتُہُ عَنْ ذَلِکَ الْحَدِیثِ فَقَالَ لِی مَالِکٌ : بَیْنَا أَنَا جَالِسٌ فِی أَہْلِی حِینَ مَتَعَ النَّہَارُ إِذَا رَسُولُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ أَجِبْ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ فَانْطَلَقْتُ مَعَہُ حَتَّی إِذَا دَخَلْتُ عَلَی عُمَرَ فَإِذَا ہُوَ جَالِسٌ عَلَی رِمَالِ سَرِیرٍ لَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ فِرَاشٌ مُتَّکِئٌ عَلَی وِسَادَۃٍ مِنْ أَدَمٍ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ ثُمَّ جَلَسْتُ فَقَالَ لِی ہَا ہُنَا یَا مَالِ یَعْنِی یَا مَالِکُ إِنَّہُ قَدْ قَدِمَ أَہْلُ أَبْیَاتٍ مِنْ قَوْمِکَ وَقَدْ أَمَرْتُ لَہُمْ فَأَقْسِمْ بَیْنَہُمْ قَالَ فَقُلْتُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ لَوْ أَمَرْتَ بِہِ غَیْرِی قَالَ فَاقْبِضْہُ أَیُّہَا الْمَرْئُ قَالَ فَبَیْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَہُ إِذْ جَائَ ہُ حَاجِبُہُ یَرْفَأُ فَقَالَ ہَلْ لَکَ فِی عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالزُّبَیْرِ وَسَعْدٍ یَسْتَأْذِنُونَ عَلَیْکَ قَالَ نَعَمْ فَأَذِنَ لَہُمْ قَالَ فَدَخَلُوا فَسَلَّمُوا قَالَ ثُمَّ لَبِثَ یَرْفَأُ قَلِیلاً فَقَالَ لِعُمَرَ : ہَلْ لَکَ فِی عَلِیٍّ وَالْعَبَّاسِ قَالَ نَعَمْ ائْذَنْ لَہُمَا فَلَمَّا دَخَلاَ سَلَّمَا وَجَلَسَا فَقَالَ عَبَّاسٌ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ اقْضِ بَیْنِی وَبَیْنَ ہَذَا فَقَالَ الرَّہْطُ عُثْمَانُ وَأَصْحَابُہُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ اقْضِ بَیْنَہُمَا وَأَرِحْ أَحَدَہُمَا مِنَ الآخَرِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(٢٠٢٦٠) مالک بن اوس بن حدثان نصری فرماتے ہیں کہ محمد بن جبیر بن مطعم نے ایک حدیث ذکر کی۔ میں چلا اور مالک بن اوس بن حدثان پر داخل ہوا۔ میں نے اس حدیث کے متعلق سوال کیا تو مالک نے فرمایا : میں اپنے گھر والوں کے درمیان تھا، جس وقت دن اچھی طرح چڑھ گیا تو اچانک حضرت عمر (رض) کا قاصد آیا، اس نے کہا : امیرالمومنین یاد کر رہے ہیں۔ میں اس کے ساتھ حضرت عمر (رض) کے پاس گیا۔ وہ کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی چادر پائی پر بیٹھے تھے، کوئی اوپر بستر بھی نہ تھا اور چمڑے کا بنا ہوا تکیہ تھا۔ میں سلام کہہ کر بیٹھ گیا۔ فرمانے لگے : اے مالک ! یہاں بیٹھو۔
اور اپنی قوم کے لوگوں میں تقسیم کرو، میں نے ان کو حکم دے دیا ہے ان کے درمیان تقسیم کر دو ۔ میں نے کہا : اے امیرالمومنین ! میرے علاوہ کسی اور کو حکم دے دیں۔ فرمایا : اے انسان ! پکڑ۔ ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ دربان آیا اور حضرت عثمان، عبدالرحمن، زبیر اور سعد کے لیے اجازت طلب کررہا تھا۔ حضرت عمر (رض) نے اجازت دے دی۔ اجازت ملنے کے بعد وہ داخل ہوئے اور سلام کہا : تھوڑی دیر کے بعد دربان دوبارہ آیا۔ حضرت عمر (رض) سے کہا : حضرت علی وعباس (رض) اجازت طلب کرتے ہیں، فرمایا : ان کو اجازت دے دو ۔ دونوں داخل ہوئے اور سلام کہہ کر بیٹھ گئے تو عباس (رض) نے فرمایا : میرے اور اس کے درمیان فیصلہ فرمائیں۔ گروہ کہنے لگا : حضرت عثمان اور ساتھی، اے امیرالمومنین ! ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرنا اور ایککو دوسرے سے آرام دینا۔