hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 20280

.

سنن البيهقي

20280
Sunan Al Bayhaqi
(۲۰۲۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ فِی حَدِیثِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الرَّجُلِ الَّذِی سَافَرَ مَعَ أَصْحَابٍ لَہُ فَلَمْ یَرْجِعْ حِینَ رَجَعُوا فَاتَّہَمَ أَہْلُہُ أَصْحَابَہُ فَرَفَعُوہُمْ إِلَی شُرَیْحٍ فَسَأَلَہُمُ الْبَیِّنَۃَ عَلَی قَتْلِہِ فَارْتَفَعُوا إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأَخْبَرُوہُ بِقَوْلِ شُرَیْحٍ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَوْرَدَہَا سَعْدٌ وَسَعْدٌ مُشْتَمِلْ یَا سَعْدُ لاَ تَرْوَی بِہَا ذَاکَ الإِبِلْ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ أَہْوَنَ السَّقْیِ التَّشْرِیعُ قَالَ ثُمَّ فَرَّقَ بَیْنَہُمْ وَسَأَلَہُمْ فَاخْتَلَفُوا ثُمَّ أَقَرُّوا بِقَتْلِہِ فَأَحْسِبُہُ قَالَ فَقَتَلَہُمْ بِہِ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ حَدَّثَنِیہِ رَجُلٌ لاَ أَحْفَظُ اسْمَہُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ قَوْلَہُ أَوْرَدَہَا سَعْدٌ وَسَعْدٌ مُشْتَمِلْ ہَذَا مَثَلٌ یُقَالُ إِنَّ أَصْلَہُ أَنَّ رَجُلاً أَوْرَدَ إِبِلَہُ مَائً لاَ تَصِلُ إِلَی شُرْبِہِ إِلاَّ بِالاِسْتِقَائِ ثُمَّ اشْتَمَلَ وَنَامَ وَتَرَکَہَا یَقُولُ فَہَذَا الْفِعْلُ لاَ تَرْوَی بِہِ الإِبِلُ وَقَوْلُہُ إِنَّ أَہْوَنَ السَقْیِ التَّشْرِیعُ ہُوَ مَثَلٌ أَیْضًا یَقُولُ إِنَّ أَیْسَرَ مَا یَنْبَغِی أَنْ یُفْعَلَ بِہَا أَنْ یُمَکِّنَہَا مِنَ الشَّرِیعَۃِ أَوِ الْحَوْضِ یَقُولُ إِنَّ أَہْوَنَ مَا کَانَ یَنْبَغِی لِشُرَیْحٍ أَنْ یَفْعَلَ أَنْ یَسْتَقْصِیَ فِی الْمَسْأَلَۃِ وَالنَّظَرِ وَالْکَشْفِ عَنْ خَبَرِ الرَّجُلِ حَتَّی یُعْذَرَ فِی طَلَبِہِ وَلاَ یَقْتَصِرَ عَلَی طَلَبِ الْبَیِّنَۃِ فَقَطْ۔
(٢٠٢٧٤) ابوعبید نے حضرت علی (رض) کی حدیث جس میں ہے کہ ایک شخص نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ سفر کیا میں فرمایا : وہ ان کے ساتھ واپس نہ آیا، اس کے گھر والوں نے اس کے ساتھیوں پر قتل کی تہمت لگا دی تو فیصلہ قاضی شریح کے پاس آیا۔ انھوں نے قتل پر گواہی طلب کی تو وہ لوگ فیصلہ حضرت علی (رض) کے پاس لے آئے۔ انھوں نے قاضی شریح کی بات سنائی تو حضرت علی (رض) فرمانے لگے : سعد آئے۔ سعید نے اونٹوں کو گھاٹ پر چھوڑا، جس سے صرف مشکیزہ کے ساتھ پانی پیا جاسکتا تھا۔ پھر سعد چادر اوڑھ کر سو گئے۔ اس کی وجہ سے اونٹ سیر نہ ہوئے۔ پھر حضرت علی (رض) نے ان کو جدا جدا کر کے پوچھا تو ان کے بیانات مختلف تھے۔ پھر انھوں نے اس کے قتل کا اقرار کرلیا۔
سب سے آسان طریقہ جس کے ذریعہ حوض سے جگہ حاصل کی جاسکتی ہے اور قاضی شریح کے لیے مسائل کو ختم کرنا زیادہ آسان ہے غور وفکر ہے یہاں تک کہ وہ کسی دلیل کے محتاج نہ رہے۔