(۲۰۴۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا سَیَّارٌ حَدَّثَنَا الشَّعْبِیُّ قَالَ : کَانَ بَیْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَبَیْنَ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا تَدَارِی فِی شَیْئٍ وَادَّعَی أُبَیٌّ عَلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَأَنْکَرَ ذَلِکَ فَجَعَلاَ بَیْنَہُمَا زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَأَتَیَاہُ فِی مَنْزِلِہِ فَلَمَّا دَخَلاَ عَلَیْہِ قَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَتَیْنَاکَ لِتَحْکُمَ بَیْنَنَا وَفِی بَیْتِہِ یُؤْتَی الْحَکَمُ فَوَسَّعَ لَہُ زَیْدٌ عَنْ صَدْرِ فِرَاشِہِ فَقَالَ ہَا ہُنَا یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَقَدْ جُرْتَ فِی الْفُتْیَا وَلَکِنْ أَجْلِسُ مَعَ خَصْمِی فَجَلَسَا بَیْنَ یَدَیْہِ فَادَّعَی أُبَیٌّ وَأَنْکَرَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَالَ زَیْدٌ لأُبَیٍّ أَعْفِ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ مِنَ الْیَمِینِ وَمَا کُنْتُ لأَسْأَلَہَا لأَحَدٍ غَیْرِہِ فَحَلَفَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ثُمَّ أَقْسَمَ لاَ یُدْرِکُ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ الْقَضَائَ حَتَّی یَکُونَ عُمَرُ وَرَجُلٌ مِنْ عُرْضِ الْمُسْلِمِینَ عِنْدَہُ سَوَاء ٌ۔ [ضعیف]
(٢٠٤٦٣) شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) اور ابی بن کعب (رح) کے درمیان کچھ مسئلہ تھا، حضرت ابی نے حضرت عمر کے خلاف دعویٰ کردیا، انھوں نے انکار کردیا، وہ دونوں اپنا جھگڑا لے کر زید بن ثابت کے پاس ان کے گھر آئے۔ جب وہ دونوں ان کے پاس گئے۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ ہمارے درمیان فیصلہ کریں اور ان کے گھر حاکم آئے تو زید نے ان کے لیے بستر سیدھا کردیا اور کہا : اے امیرالمومنین ! یہاں تشریف رکھو، حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : تو نے فتویٰ میں جرأت کی ہے۔ میں اپنے جھگڑا کرنے والے ساتھیوں میں بیٹھوں گا۔ وہ ان کے سامنے بیٹھ گئے۔ ابی نے دعویٰ کیا حضرت عمر (رض) نے انکار کردیا تو حضرت زید نے ابی سے کہا : امیرالمومنین کو معاف کر دو ۔ میں کسی ایک سے بھی اس کے بارے میں سوال نہ کروں گا۔ حضرت عمر (رض) نے قسم اٹھائی۔ پھر اس نے تقسیم کردیا تو زید بن ثابت کو فیصلہ سمجھ نہ آیا۔ یہاں تک کہ حضرت عمر (رض) اور مسلمانوں کا عام آدمی دونوں اس کے نزدیک برابر ہوجائیں ۔