(۲۰۵۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنْ یُوسُفَ بْنِ مِہْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {إِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ إِلَی أَجْلٍ مُسَمًّی فَاکْتُبُوہُ} [البقرۃ ۲۸۲] إِلَی آخِرِ الآیَۃِ : إِنَّ أَوَّلَ مَنْ جَحَدَ آدَمُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ إِنَّ اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَرَاہُ ذُرِّیَّتَہُ فَرَأَی رَجُلاً أَزْہَرَ سَاطِعًا نُورُہُ فَقَالَ یَا رَبِّ مَنْ ہَذَا قَالَ ہَذَا ابْنُکَ دَاوُدَ قَالَ یَا رَبِّ فَما عُمْرُہُ قَالَ سِتُّونَ سَنَۃٍ قَالَ یَا رَبِّ زِدْ فِی عُمْرِہِ قَالَ لاَ إِلاَّ أَنْ تَزِیدَہُ مِنْ عُمْرِکَ قَالَ وَمَا عُمْرِی قَالَ أَلْفُ سَنَۃٍ قَالَ آدَمُ فَقَدْ وَہَبْتُ لَہُ أَرْبَعِینَ سَنَۃٍ قَالَ وَکَتَبَ اللَّہُ عَلَیْہِ کِتَابًا وَأَشْہَدَ عَلَیْہِ مَلاَئِکَتَہُ فَلَمَّا حَضَرَہُ الْمَوْتُ وَجَائَ تْہُ الْمَلاَئِکَۃُ قَالَ إِنَّہُ بَقِیَ مِنْ عُمْرِی أَرْبَعُونَ سَنَۃً قَالُوا إِنَّہُ قَدْ وَہَبْتَہُ لاِبْنِکَ دَاوُدَ قَالَ مَا وَہَبْتُ لأَحَدٍ شَیْئًا قَالَ فَأَخْرَجَ اللَّہُ الْکِتَابَ وَشَہِدَ عَلَیْہِ مَلاَئِکَتُہُ ۔ [ضعیف]
(٢٠٥١٨) ابن عباس (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کے اس قول کے بارے میں فرمایا : { اِذَا تَدَایَنْْتُمْْ بِدَیْْنٍ اِلٓٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکْْتُبُوْْہُ } [البقرۃ ٢٨٢] ” جب تم ادھار لین دین کرو وقت مقرر تک تو لکھ لیا کرو۔ “ پہلا جھگڑا آدم نے اللہ سے کیا، جب اللہ نے اس کو اس کی اولاد دکھائی۔ ایک آدمی کو دیکھا جس کی پیشانی چمک رہی تھی، پوچھا : اے میرے رب ! یہ کون ہے ؟ فرمایا : یہ تیرا بیٹا داؤد ہے، پوچھا : اے میرے رب ! اس کی عمر کتنی ہے، فرمایا : ٦٠ سال۔ کہا : اے میرے رب ! اس کی عمر میں اضافہ فرما۔ فرمایا : نہیں لیکن اپنی عمر میں سے کچھ اضافہ کر دو ۔ پوچھا : میری عمر کتنی ہے ؟ فرمایا : ہزار سال۔ آدم نے عرض کیا : میں نے چالیس اس کو ہبہ کردی۔ اللہ نے لکھ لیا اور فرشتوں کو گواہ بنا لیا۔ جب آدم کی موت کا وقت آیا اور فرشتے حاضر ہوئے تو کہنے لگے : میری عمر کے چالیس برس باقی ہیں۔ فرمایا : تو نے اپنے بیٹے داؤد کو ہبہ کردیے تھے۔ کہنے لگے : میں نے کچھ بھی ہبہ نہیں کیا، اللہ نے لکھا ہوا نکالا اور فرشوں نے گواہی دی۔