(۲۰۶۰۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ وَخَالِدٌ وَإِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : إِذَا دُعِیَ لِیَشْہَدَ وَإِذَا دُعِیَ لِیُقِیمَہَا کِلاَہُمَا۔
زَادَ فِیہِ غَیْرُہُ عَنِ الْحَسَنِ فَإِنَّ النَّاسَ کُلَّہُمْ لَوْ أَبَوْا أَنْ یَشْہَدَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ لَمْ یَسَعْہُمْ ذَلِکَ۔
وَقَدْ ذَہَبَ جَمَاعَۃٌ مِنَ الْمُفَسِّرِینَ إِلَی أَنَّ ہَذِہِ الآیَۃَ فِی إِقَامَۃِ الشَّہَادَۃِ وَالآیَۃُ مُحْتَمَلَۃٌ لِلْوَجْہَیْنِ جَمِیعًا کَمَا ذَہَبَ إِلَیْہِ الْحَسَنُ وَہُوَ فِی التَّحَمُّلِ فَرْضٌ عَلَی الْکِفَایَۃِ فَإِذَا قَامَ بِہِ وَبِالْکِتَابَۃِ مَنْ یَکْفِی أَخْرَجَ مَنْ تَخَلَّفَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
(٢٠٦٠١) یونس بن عبید حضرت حسن سے نقل فرماتے ہیں کہ جب گواہ کو گواہی کے لیے طلب کیا جائے تو وہ ضرور موجود ہو۔
نوٹ : حسن کے علاوہ دوسرے بیان کرتے ہیں کہ اگر وہ گواہی سے انکار کردیں تو ان کو مجبور نہ کیا جائے۔
مفسرین کی ایک جماعت کہتی ہے کہ یہ آیت شہادت کے بارے میں ہے۔ حضرت حسن نے اس کو فرضِ کفایہ پر محمول کیا ہے جب وہ اس کے ساتھ کھڑا ہوجاتا ہے تو کون سی چیز اس کو گناہ سے باز رکھے گی۔