(۲۰۸۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَیَّانَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِیَادٍ أَنْبَأَنَا أَبُو یَحْیَی السَّاجِیُّ أَوْ فِیمَا أَجَازَ لِی مُشَافَہَۃً حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ قَالَ سَمِعْتُ الشَّافِعِیَّ یَقُولُ لأَنْ یَلْقَی اللَّہَ الْعَبْدُ بِکُلِّ ذَنْبٍ مَا خَلاَ الشِّرْکَ بِاللَّہِ خَیْرٌ مِنْ أَنْ یَلْقَاہُ بِشَیْئٍ مِنْ ہَذِہِ الأَہْوَائِ وَذَلِکَ أَنَّہُ رَأَی قَوْمًا یَتَجَادَلُونَ فِی الْقَدَرِ بَیْنَ یَدَیْہِ فَقَالَ الشَّافِعِیُّ فِی کِتَابِ اللَّہِ الْمَشِیئَۃُ لَہُ دُونَ خَلْقِہِ وَالْمَشِیئَۃُ إِرَادَۃُ اللَّہِ یَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا تَشَائُ ونَ إِلاَّ أَنْ یَشَائَ اللَّہُ} [الانسان ۳۰] فَأَعْلَمَ خَلْقَہُ أَنَّ الْمَشِیئَۃَ لَہُ وَکَانَ یُثْبِتُ الْقَدَرَ۔ [صحیح۔ للشافعی]
(٢٠٨٩٥) ربیع فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی (رح) سے سنا، وہ کہتے تھے کہ بندہ اللہ سے ملاقات کرے گا ہر گناہ لے کر سوائے شرک کے ۔ بہتر ہے کہ اہل ہواء میں سے نہ ہو۔ اس طرح کی قوم آپ کے سامنے تقدیر کے بارے میں جھگڑا کیا۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : مشیت اللہ کی ہے اس کی مخلوق کے علاوہ۔ اللہ کی مشیت سے مراد اللہ کا ارادہ ہے۔ اللہ کا فرمان ہے : { وَمَا تَشَآئُ وْنَ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ } [الانسان ٣٠] ” جو تم نہیں چاہتے، مگر وہ ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ “ مشیت بھی اللہ کی ہے اور اللہ ہی تقدیر کو ثابت کرتا ہے۔