(۲۰۹۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَنْبَأَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنِی عُمَارَۃُ بْنُ غَزِیَّۃَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیَّ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ غَزْوَۃِ تَبُوکَ وَقَدْ نَصَبْتُ عَلَی بَابِ حُجْرَتِی عَبَائَ ۃً وَعَلَی عَرْضِ بَیْتِی سِتْرٌ إِرْمِنِیُّ فَدَخَلَ الْبَیْتَ فَلَمَّا رَآہُ قَالَ : مَا لِی یَا عَائِشَۃُ وَالدُّنْیَا ۔ فَہَتَکَ السِّتْرَ حَتَّی وَقَعَ بِالأَرْضِ وَفِی سَہْوَتِہَا سِتْرٌ فَہَبَّتْ رِیحٌ فَکَشَفَتْ نَاحِیَۃَ السِّتْرِ عَنْ بَنَاتٍ لِعَائِشَۃَ لُعَبٍ فَقَالَ : مَا ہَذَا یَا عَائِشَۃُ؟ ۔قَالَتْ بَنَاتِی قَالَتْ وَرَأَی بَیْنَ طُوبِہَا فَرَسًا لَہُ جَنَاحَانِ مِنْ رُقَعٍ قَالَ : فَمَا ہَذَا الَّذِی أَرَی فِی وَسْطِہِنَّ؟ ۔ قَالَتْ : فَرَسٌ۔ قَالَ : مَا ہَذَا الَّذِی عَلَیْہِ؟ ۔ قَالَتْ : جَنَاحَانِ۔ قَالَ : فَرَسٌ لَہُ جَنَاحَانِ؟ ۔ قَالَتْ أَوَمَا سَمِعْتَ أَنَّ لِسُلَیْمَانَ بْنِ دَاوُدَ خَیْلاً لَہُ أَجْنِحَۃٌ قَالَتْ : فَضَحِکَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ۔
رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ مِنْ غَزْوَۃِ تَبُوکَ أَوْ خَیْبَرَ۔ وَقَدْ ثَبَتَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- النَّہْیُ عَنِ التَّصَاوِیرِ وَالتَّمَاثِیلِ مِنْ أَوْجُہٍ کَثِیرَۃٍ عَنْہُ فَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ الْمَحْفُوظُ فِی رِوَایَۃِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قُدُومَہُ مِنْ غَزْوَۃِ خَیْبَرَ وَأَنَّ ذَلِکَ کَانَ قَبْلَ تَحْرِیمِ الصُّوَرِ وَالتَّمَاثِیلِ ثُمَّ کَانَ تَحْرِیمُہَا بَعْدَ ذَلِکَ فَمِنْ جُمْلَۃِ مَنْ رَوَی النَّہْیَ عَنْہَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَبُو ہُرَیْرَۃَ وَإِسْلاَمُہُ کَانَ زَمَنَ خَیْبَرَ فَیَکُونُ السَّمَاعُ بَعْدَہُ وَفِی حَدِیثِ جَابِرٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ زَمَنَ الْفَتْحِ وَہُوَ بِالْبَطْحَائِ أَنْ یَأْتِیَ الْکَعْبَۃَ فَیَمْحُوَ کُلَّ صُورَۃٍ فِیہَا فَلَمْ یَدْخُلْہَا النَّبِیُّ -ﷺ- حَتَّی مُحِیَتْ کُلُّ صُورَۃٍ فِیہَا۔
قَالَ الشَّیْخُ وَزَمَنُ الْفَتْحِ کَانَ بَعْدَ خَیْبَرَ وَأَیْضًا فَإِنَّہَا کَانَتْ صَغِیرَۃً فِی الْوَقْتِ الَّذِی زُفَّتْ فِیہِ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَمَعَہَا اللُّعَبُ ثَبَتَ ۔ [حسن]
(٢٠٩٨٢) ابوسلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ تبوک سے واپس آئے اور میں نے اپنے حجرہ کے دروازے پر چادر تان رکھی تھی۔ میرے گھر کی چوڑائی کی جانب پردہ تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں داخل ہوئے پردہ دیکھا اور فرمایا : اے عائشہ ! یہ دینا۔ آپ نے پردہ پھاڑ دیا اور زمین پر گرا دیا۔ اس طاق کے اندر میری گڑیاں تھیں۔ ہوا کے چلنے کی وجہ سے وہ نظر آنے لگی۔ آپ نے پوچھا : اے عائشہ ! یہ کیا ہے ؟ عرض کیا : میرے کھلونے۔ آپ نے دیکھا : ان کے درمیان ایک گھوڑا تھا جس کے کپڑے کے پر تھے، آپ نے پوچھا : یہ درمیان میں کیا ہے ؟ کہنے لگی : گھوڑا۔ آپ نے پوچھا : اس کے اوپر کیا ہے ؟ کہتی ہیں : اس کے دو پر۔ آپ نے فرمایا : گھوڑے کے پر ہوتے ہیں۔ کہنے لگیں : کیا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس گھوڑا تھا، اس کے پر تھے۔ آپ ہنس پڑے یہاں تک داڑھیں ظاہر ہوگئی۔
(ب) ایک حدیث میں ہے کہ آپ غزوہ تبوک یا خیبر سے واپس ہوئے ۔ آپ سے تصاویر کی حرمت ثابت ہے، ممکن ہے یہ واقعہ حرمت سے پہلے کا ہو۔ حضرت ابوہریرہ (رض) ممانعت والی حدیث کے راوی ہیں۔ یہ غزوہ خیبر کے زمانہ میں مسلمان ہوئے ہیں۔ ممکن ہے ان کا سماع بعد میں ہو۔
حضرت جابر کی حدیث میں ہے کہ آپ نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو فتح مکہ کے زمانہ میں جب وہ بطحامقام پر تھے حکم دیا کہ کعبہ سے تمام تصاویر ختم کردی جائیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ میں داخل ہوئے جب تمام صورتیں ختم کردی گئی۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں : فتح کا زمانہ خیبر کے بعد کا ہے۔ اس وقت وہ چھوٹی تھیں، جب ان کی رخصتی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کی گئی۔ ان کے ساتھ کھلونے تھے۔