(۲۱۱۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ بَشِیرِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ حَبِیبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرِ قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِوَقْتِ الصَّلاَۃِ صَلاَۃِ الْعِشَائِ ، کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّیہَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَۃٍ۔
وَسَائِرُ مَا رُوِیَ فِی التَّعْجِیلِ بِالصَّلَوَاتِ عَلَی الْعُمُومِ قَدْ مَضَی ذِکْرُہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ الترمذی ۱۶۵]
(٢١١١) (ا) حضرت نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ میں لوگوں میں سب سے زیادہ جانتا ہوں کہ عشا کی نماز کا وقت کب ہے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشا کی نماز تہائی رات کا چاند ڈوب جانے پر ادا فرماتے تھے۔
(ب) وہ تمام روایات جو عموماً نمازوں کو جلدی ادا کرنے کے بارے میں ہیں ان کا ذکر گذر چکا۔