(۲۱۱۲) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِاللَّہِ بْنِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عِبَادَۃَ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُونَصْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الطَّابَرَانِیُّ بِہَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا رَوْحُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ قَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْعِشَائَ تِسْعَ لَیَالٍ إِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: یَا رَسُولَ اللَّہِ لَوْ أَنَّکَ عَجَّلْتَ ہَذِہِ الصَّلاَۃَ لَکَانَ أَمْکَنَ لِقَائِمِنَا۔
وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ الْمُنَادِی لَکَانَ أَمْثَلَ لِقِیَامِنَا مِنَ اللَّیْلِ فَعَجَّلَ بَعْدَ ذَلِکَ۔ تَفَرَّدَ بِہِ عَلِیُّ بْنُ زَیْدِ بْنِ جُدْعَانَ۔ (ج) وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ۔ [ضعیف۔ اخرجہ احمد ۵/ ۴۲]
(٢١١٢) (ا) حضرت ابوبکرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ٩ راتوں تک عشا کی نماز کو تہائی رات تک مؤخر کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! اگر آپ اس نماز کو جلدی پڑھا دیا کریں تو ہم زیادہ دیر قیام کرسکتے ہیں۔
(ب) ابن منادی کی روایت میں امکن لقیامنا کی جگہ امثل لقیامنا کے الفاظ ہیں کہ رات کا قیام ہمارے لیے زیادہ آسان ہوتا۔ اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلدی نماز پڑھاتے تھے۔