(۲۱۳۰۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَۃَ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَۃَ الْخُزَاعِیُّ حَدَّثَنَا لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ أَبِی الْخَیْرِ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّکَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ لاَ یَقْرُونَنَا فَمَا تَرَی فِی ذَلِکَ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأُمِرَ لَکُمْ بِمَا یَنْبَغِی لِلضَّیْفِ فَاقْبَلُوا فَإِنْ لَمْ یَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْہُمْ حَقَّ الضَّیْفِ الَّذِی یَنْبَغِی لَہُمْ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ وَغَیْرِہِ عَنِ اللَّیْثِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنِ اللَّیْثِ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
(٢١٣٠١) عقبہ بن عامر فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ہم کو روانہ کرتے ہیں۔ اگر ہم کسی قوم کے پاس جاتے ہیں، وہ ہماری مہمان نوازی نہیں کر تیتو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم کسی قوم کے پاس جاؤ وہ تمہاری مہمانی کریں جو مہمان کے شایان شان ہے تو قبول کرلو۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو مہمان کا مناسب حق لے سکتے ہو۔