(۲۱۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو الْہُذَلِیِّ: أَنَّ عُمَرَ کَتَبَ إِلَی أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ: کَتَبْتُ إِلَیْکَ فِی الصَّلاَۃِ وَأَحَقَّ مَا تَعَاہَدَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ دِینِہِمْ، وَقَدْ رَأَیْتَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَیْفَ کَانَ یُصَلِّی ، حَفِظْتَ مِنْ ذَلِکَ مَا حَفِظْتَ وَنَسِیتَ مِنْ ذَلِکَ مَا نَسِیتَ، فَصَلَّی الظُّہْرَ بِالْہَاجِرَۃِ وَصَلَّی الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَیَّۃٌ ، وَالْمَغْرِبَ حِینَ حَلَّ فِطْرُ الصَّائِمِ ، وَالْعِشَائَ مَا لَمْ یَخَفْ رُقَادَ النَّاسِ ، وَالصُّبْحَ بِغَلَسٍ ، وَأَطِلْ فِیہَا الْقِرَائَ ۃَ۔
[صحیح لغیرہ۔ مضٰی تخریجہ اکثر من مرۃ فانظر ۲۰۹۶]
(٢١٤٥) حارث بن عمرو ہذلی سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) نے ابو موسیٰ اشعری (رض) کی طرف خط لکھا کہ میں تمہیں نماز کے بارے لکھ رہا ہوں اور یہ تمام شرعی احکامات میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے کہ آپ کس طرح نماز پڑھتے تھے۔ مجھے بھی اتنا ہی یاد ہے جتنا تمہیں یاد ہے۔ آپ نے ظہر کی نماز دوپہر کے وقت پڑھائی اور عصر کی نماز سورج کے صاف اور روشن ہوتے ہوئے ادا فرمائی اور مغرب کی نماز اس وقت ادا کی جب روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے اور عشا کی نماز اس وقت تک ادا کرتے جب تک لوگوں کے سو جانے کا ڈر نہ ہو اور صبح کی نماز اندھیرے میں ادا کرتے تھے تو تم (بھی) فجر کی نماز میں لمبی قرات کیا کرو۔