(۲۱۴۶۸) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَنْبَأَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ سَمِعَ سِنِینَ أَبَا جَمِیلَۃَ یُحَدِّثُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ یَقُولُ : وَجَدْتُ مَنْبُوذًا عَلَی عَہْدِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَہُ عَرِیفِی لِعُمَرَ فَأَرْسَلَ إِلَیَّ فَدَعَانِی وَالْعَرِیفُ عِنْدَہُ فَلَمَّا رَآنِی مُقْبِلاً قَالَ ہَذَا؟ عَسَی الْغُوَیْرُ أَبْؤُسًا قَالَ الْعَرِیفُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّہُ لَیْسَ بِمُتَّہَمٍ۔ قَالَ : عَلَی مَا أَخَذَتَ ہَذَا؟ قَالَ : وَجَدْتُ نَفْسًا مُضَیَّعَۃً فَأَحْبَبْتُ أَنْ یَأْجُرَنِی اللَّہُ فِیہَا قَالَ ہُوَ حُرٌّ وَوَلاَؤُہُ لَکَ وَعَلَیْنَا رَضَاعُہُ۔
(ق) أَجَابَ عَنْہُ الشَّافِعِیُّ بِأَنَّہُ لَیْسَ مِمَّا یَثْبُتُ مِثْلُہُ ہُوَ عَنْ رَجُلٍ لَیْسَ بِالْمَعْرُوفِ یَعْنِی أَبَا جَمِیلَۃَ ثُمَّ سَاقَ کَلاَمَہُ إِلَی أَنَّ السُّنَّۃَ جَائَ تْ بِأَنَّ الْوَلاَئَ إِنَّمَا ہُوَ لِمَنْ أَعْتَقَ وَأَنَّ الْحَدِیثَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَدْ یَعْزُبُ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِہِ وَلَیْسَ فِی أَحَدٍ وَلَوْ کَانُوا عَدَدًا مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- حُجَّۃٌ۔ [ضعیف]
(٢١٤٦٨) سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر (رض) کے دور میں ایک پھینکا ہوا بچہ پایا، میرے نگران نے حضرت عمر (رض) کے سامنے تذکرہ کردیا، انھوں نے میری طرف کسی کو روانہ کیا اور مجھے بلوایا اور عریف بھی وہاں تھے، جب اس نے مجھے آتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے : یہ ہے۔ عریف نے کہا : اے امیرالمومنین ! یہ متہم نہیں ہے، فرمانے لگے : آپ نے اس کو کیوں لیا ؟ عرض کیا : میں نے ایک جان کو ضیاع ہوتے دیکھا، میں نے خیال کیا کہ اللہ مجھے اجر عطا کرے گا، کہنے لگے : وہ آزاد ہے، اس کے ولاء آپ کے لیے ہے اور ہمارے ذمہ صرف پرورش کرنا ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ سنت طریقہ یہ ہے کہ ولاء اس کے لیے ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ ممکن ہے صحابہ سے بعض احادیث مخفی رہ گئی ہوں۔ اگرچہ صحابہ کی تعداد زیادہ بھی تھی۔