(۲۱۵۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّائُ أَنْبَأَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ وَعِیسَی بْنُ مِینَائَ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ کَانُوا یَقُولُونَ : لاَ تَرِثُ الْمَرْأَۃُ شَیْئًا مِنَ الْوَلاَئِ لأَحَدٍ مِنْ أَقَارِبِہَا وَلاَ تَرِثُ مِنَ الْوَلاَئِ إِلاَّ مَا أَعْتَقَتْ ہِیَ نَفْسُہَا أَوْ مَنْ کَاتَبَتْ فَعَتَقَ مِنْہَا أَوْ وَلاَئَ مَوْلَی مَنْ أَعْتَقَتْ۔ [ضعیف]
(٢١٥١٥) ابن ابی زناد فرماتے ہیں کہ مدینہ کے فقہاء کہتے ہیں کہ عورت اپنے قریبی رشتہ داروں میں سے کسی کی ولاء کی وارث نہ ہوگی۔ صرف اس کی ولاء کی وارث ہوگی جس کو بذات خود آزاد کیا یا جس نے اس سے مکاتبت کر کے آزادی حاصل کی یا اس غلام کی ولاء جس کو اس نے آزاد کیا۔