(۲۱۵۲۵) وَقَدْ أَخْبَرَنَا الشَّرِیفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِیُّ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی شُرَیْحٍ أَنْبَأَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ أَنْبَأَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ قَالَ : کَانَ شُرَیْحٌ لاَ یَکَادُ یَرْجِعُ عَنْ قَضَائٍ قَضَی بِہِ حَتَّی حَدَّثَہُ الأَسْوَدُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ فِی الْحُرَّۃِ تَکُونَ تَحْتَ الْعَبْدِ فَتَلِدُ لَہُ أَوْلاَدًا ثُمَّ یَعْتِقُ أَبُوہُمْ أَنَّہُ یَصِیرُ وَلاَؤُہُمْ إِلَی مَوَالِی أَبِیہِمْ فَأَخَذَ بِہِ شُرَیْحٌ ہَذَا إِسْنَادٌ صَحِیحٌ وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ الأَسْوَدُ حَدَّثَہُ عَنْ عُمَرَ وَابْنِ مَسْعُودٍ جَمِیعًا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
(٢١٥٢٥) اسود بن یزید حضرت عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جو عورت غلام کے نکاح میں ہو۔ اس کی اولاد بھی ہو۔ پھر ان کا باپ آزاد ہوجائے تو ان کی ولاء باپ کے آزاد کردہ لوگوں کے پاس ہوگی تو قاضی شریح اسی طرح فیصلہ فرماتے تھے۔