(۲۱۵۳۸) فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ
(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ أَنْبَأَنَا اللَّیْثُ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی عُذْرَۃَ عَبْدًا لَہُ عَنْ دُبُرٍ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ: أَلَکَ مَالٌ غَیْرُہُ؟ ۔ فَقَالَ : لاَ۔ فَقَالَ : مَنْ یَشْتَرِیہِ مِنِّی؟ ۔ فَاشْتَرَاہُ نُعَیْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْعَدَوِیُّ بِثَمَانِمِائَۃِ دِرْہَمٍ فَجَائَ بِہَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَدَفَعَہَا إِلَیْہِ ثُمَّ قَالَ : ابْدَأْ بِنَفْسِکَ فَتَصَدَّقْ عَلَیْہَا فَإِنْ فَضَلَ شَیْئٌ فَلأَہْلِکَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ أَہْلِکَ شَیْئٌ فَلِذِی قَرَابَتِکَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذِی قَرَابَتِکَ فَہَکَذَا وَہَکَذَا ۔ یَقُولُ فَبَیْنَ یَدَیْکَ وَعَنْ یَمِینِکَ وَعَنْ شِمَالِکَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَمُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَیُّوبُ بْنُ أَبِی تَمِیمَۃَ السَّخْتِیَانِیُّ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(٢١٥٣٨) ابو زبیر حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو عذرہ کے ایک مرد نے اپنے مدبر غلام کو آزاد کردیا، یہ خبر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی ملی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کوئی اور مال بھی ہے ؟ اس نے کہا : نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کون مجھ سے خریدے گا ؟ تو نعیم بن عبداللہ عدوی نے ٨٠٠ درہم کا خرید لیا۔ وہ قیمت لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو آپ نے اس کو واپس کردی اور فرمایا : سب سے پہلے اپنے اوپر صدقہ کرا کر۔ اگر زائد بچ جائے تو اپنے گھر والوں پر، پھر بھی بچ جائے تو قریبی رشتہ داروں پر، پھر بھی بچ جائیتو دائیں بائیں جس کو تمہارا دل چاہے۔