hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 21629

.

سنن البيهقي

21629
Sunan Al Bayhaqi
(۲۱۶۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی أَبُو بِشْرٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا جُوَیْرِیَۃُ بْنُ أَسْمَائَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ عَنْ رَجُلٍ قَالَ : کُنْتُ مَمْلُوکًا لِعُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ بَعَثَنِی عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی تِجَارَۃٍ فَقَدِمْتُ عَلَیْہِ فَأَحْمَدَ وِلاَیَتِی قَالَ فَقُمْتُ بَیْنَ یَدَیْہِ ذَاتَ یَوْمٍ فَقُلْتُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَسْأَلُکَ الْکِتَابَۃَ فَقَطَّبَ فَقَالَ نَعَمْ وَلَوْلاَ آیَۃٌ فِی کِتَابِ اللَّہِ مَا فَعَلْتُ أُکَاتِبُکَ عَلَی مِائَۃِ أَلْفٍ عَلَی أَنْ تَعُدَّہَا لِی فِی عَدَّتَیْنِ وَاللَّہِ لاَ أَغُضُّکَ مِنْہَا دِرْہَمًا قَالَ فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِہِ فَلَقِیَنِی الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : مَا الَّذِی أَرَی بِکَ قُلْتُ کَانَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ بَعَثَنِی فِی تِجَارَۃٍ فَقَدِمْتُ عَلَیْہِ فَأَحْمَدَ وِلاَیَتِی فَقُمْتُ إِلَیْہِ فَقُلْتُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَسْأَلُکَ الْکِتَابَۃَ قَالَ فَقَطَّبَ قَالَ فَقَالَ نَعَمْ وَلَوْلاَ آیَۃٌ فِی کِتَابِ اللَّہِ مَا فَعَلْتُ أُکَاتِبُکَ عَلَی مِائَۃِ أَلْفٍ عَلَی أَنْ تَعُدَّہَا لِی فِی عَدَّتَیْنِ وَاللَّہِ لاَ أَغُضُّکَ مِنْہَا دِرْہَمًا قَالَ فَقَالَ انْطَلِقْ قَالَ فَرَدَّنِی إِلَیْہِ فَقَامَ بَیْنَ یَدَیْہِ فَقَالَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ فُلاَنٌ کَاتَبْتَہُ قَالَ فَقَطَّبَ وَقَالَ نَعَمْ وَلَوْلاَ آیَۃٌ فِی کِتَابِ اللَّہِ مَا فَعَلْتُ أُکَاتِبُہُ عَلَی مِائَۃِ أَلْفٍ عَلَی أَنْ یَعُدَّہَا لِی فِی عَدَّتَیْنِ وَاللَّہِ لاَ أَغُضُّہُ مِنْہَا دِرْہَمًا قَالَ فَغَضِبَ الزُّبَیْرُ فَقَالَ لِلَّہِ لأَمْثُلَنَّ بَیْنَ یَدَیْکَ فَإِنَّمَا أَطْلُبُ إِلَیْکَ حَاجَۃً تَحُولُ دُونَہَا بِیَمِینٍ قَالَ فَضَرَبَ لاَ أَدْرِی قَالَ کَتِفِی أَوْ قَالَ عَضُدِی ثُمَّ قَالَ کَاتِبْہُ قَالَ فَکَاتَبْتُہُ فَانْطَلَقَ بِیَ الزُّبَیْرُ إِلَی أَہْلِہِ فَأَعْطَانِی مِائَۃَ أَلْفٍ ثُمَّ قَالَ انْطَلِقْ فَاطْلُبْ فِیہَا مِنْ فَضْلِ اللَّہِ فَإِنْ غَلَبَکَ أَمْرٌ فَأَدِّ إِلَی عُثْمَانَ مَا لَہُ مِنْہَا فَانْطَلَقْتُ فَطَلَبْتُ فِیہَا مِنْ فَضْلِ اللَّہِ وَأَدَّیْتُ إِلَی عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَالَہُ وَإِلَی الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَالَہُ وَفَضَلَ فِی یَدِی ثَمَانُونَ أَلْفًا۔ [ضعیف]
(٢١٦٢٣) مسلم بن ابی مریم ایک آدمی سینقل فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان (رض) کا غلام تھا۔ حضرت عثمان نے مجھے تجارت کی غرض سے بھیجا۔ میں واپس آیا تو انھوں نے میری تعریف کی۔ کہتے ہیں : میں ایک دن حضرت عثمان (رض) کے سامنے کھڑا ہوا اور کہا : اے امیرالمومنین ! میں مکاتبت کا سوال کرتا ہوں۔ انھوں نے کہا ٹھیک ہے۔ اگر اللہ کی کتاب میں یہ آیت نہ ہوتی تو میں ایک لاکھ کے عوض بھی مکاتبت نہ کرتا کہ آپ مجھے وہ دو مدتوں میں ادا کرتے۔ اللہ کی قسم ! میں ایک درہم بھی کم نہیں کروں گا۔ کہتا ہے کہ میں حضرت عثمان (رض) کے پاس سے نکلا تو زبیر بن عوام سے ملاقات ہوگئی تو انھوں نے کہا کہ میں تجھے کیسے دیکھ رہا ہوں، میں نے کہا کہ امیرالمومنین نے مجھے تجارت کی غرض سے بھیجا ہے۔ میں واپس لوٹا تو انھوں نے میری بہت زیادہ تعریف کی میں ان کے سامنے کھڑا ہوا اور کہا : اے امیرالمومنین ! میں مکاتبت کا سوال کرتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ انھوں نے مکاتبت کرلی اور فرمایا : اگر اللہ کی کتاب میں یہ آیت نہ ہوتی تو میں ایک لاکھ کے عوض بھی مکاتبت نہ کرتا کہ آپ مجھے دو مدتوں میں ادا کرتے۔ اللہ کی قسم ! میں اس سے ایک درہم بھی کم نہیں کروں گا تو زبیر بن عوام کہنے لگے : چلو۔ انھوں نے مجھے لا کر امیرالمومنین کے سامنے کھڑا کردیا اور کہا : اے امیرالمومنین ! آپ نے فلاں سے مکاتبت کی ہے۔ کہتے ہیں : ہاں ! اگر اللہ کی کتاب میں آیت نہ ہوتی تو میں ایک لاکھ کے عوض بھی مکاتبت نہ کرتا کہ آپ وہ دو مدتوں میں ادا کرتے۔ اللہ کی قسم ! میں اس سے ایک درہم بھی کم نہیں کروں گا۔ راوی کہتے ہیں کہ زبیر بن عوام غصے میں آگئے اور کہا : اللہ کی قسم ! میں آپ کے سامنے مثالیں بیان کروں گا اور آپ مجھے اپنی ضرورت بیان کریں جس کی وجہ سے آپ نے قسم اٹھائی۔ فرماتے ہیں کہ انھوں نے میرے کندھے پر ہاتھ مارا اور کہا کہ میں نہیں جانتا۔ پھر کہا کہ چلو آپ اس سے مکاتبت کرلیں۔ راوی کہتے ہیں : میں نے ان سے مکاتبت کرلی تو زبیر بن عوام نے گھر جا کر مجھے ایک لاکھ روپے ادا کردیے پھر کہا : جاؤ ان سے اللہ کا فضل تلاش کرو۔ اگر معاملہ غالب آجائے تو حضرت عثمان (رض) کو یہ رقم ادا کردینا۔ کہتے ہیں کہ میں چلا اللہ کا فضل تلاش کرتا رہا تو میں نے حضرت عثمان (رض) کو اور زبیر بن عوام (رض) کو ان کی رقم ادا کردی اور میرے پاس اسی ہزار موجود تھے۔