(۲۱۷۰۴) قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ وَقَالَ عَطَائُ بْنُ أَبِی رَبَاحٍ إِنْ کَاتَبَ وَلاَ وَلَدَ لَہُ ثُمَّ وَلَدَ لَہُ مِنْ سَرِیَّۃٍ لَہُ فَمَاتَ أَبُوہُمْ لَمْ یُوضَعْ عَنْہُمْ شَیْئٌ وَکَانُوا عَلَی کِتَابَۃِ أَبِیہِمْ إِنْ شَائُ وا وَإِنْ أَحَبُّوا مُحِیَتْ کِتَابَۃُ أَبِیہِمْ وَکَانُوا عَبِیدًا لَہُ کَذَا قَالُوا وَنَحْنُ نَقُولُ إِذَا مَاتَ الْمُکَاتَبُ أَوِ الْمُکَاتَبَۃُ قَبْلَ أَدَائِ مَالِ الْکِتَابَۃِ مَاتَا رَقِیقَیْنِ وَأَوْلاَدُہُمَا رَقِیقٌ اسْتِدْلاَلاً بِمَا مَضَی فِی الْمُکَاتَبِ أَنَّہُ عَبْدٌ مَا بَقِیَ عَلَیْہِ دِرْہَمٌ۔ [ضعیف]
(٢١٧٠٤) عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ اگر اس نے مکاتبت کی اور اولاد نہ تھی۔ پھر لونڈی سے اولاد ہوگئی۔ باپ فوت ہوگیا تو قیمت کم نہ کی جائے گی۔ وہ اپنے باپ کی مکاتبت پر ہی رہے گی۔ اگر چاہے تو کتابت ختم کردی جائے اور وہ غلام رہیں۔
اس لیے ہم کہتے ہیں کہ جب مکاتب یا مکاتبہ اپنی رقم ادا کیے بغیر فوت ہوجائیں تو غلام ہی رہیں گے۔ ان کی اولاد بھی غلام ہوگی۔ استدلال اس حدیث سے ہے کہ اگر اس کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہوگا وہ غلام ہی ہے۔