(۲۱۷۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ حَدِیثُ یَحْیَی عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَثْبَتُ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامٍ وَأَحْسِبُہُ غَلَطٌ فِی قَوْلِہِ وَاشْتَرِطِی لَہُمُ الْوَلاَئُ وَأَحْسَبُ حَدِیثَ عَمْرَۃَ : أَنَّ عَائِشَۃَ کَانَتْ شَرَطَتْ ذَلِکَ لَہُمْ بِغَیْرِ أَمْرِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَہِیَ تَرَی ذَلِکَ یَجُوزُ فَأَعْلَمَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہَا إِنْ أَعْتَقَتْہَا فَالْوَلاَئُ لَہَا وَقَالَ لاَ یَمْنَعُکِ عَنْہَا مَا تَقَدَّمَ مِنْ شَرْطِکِ وَلاَ أَرَی أَمَرَہَا تَشْتَرِطُ لَہُمْ مَا لاَ یَجُوزُ
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ حَدِیثُ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ حَدِیثٌ ثَابِتٌ فَقَدْ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ مَوْصُولاً۔ [صحیح]
(٢١٧٢٥) عمرۃ بنت عبدالرحمن کی حدیث ہشام کی حدیث سے زیادہثابت ہے، کیونکہ اس میں یہ جملہ غلط ہے کہ تو ان پر ولاء کی شرط لگا اور عمرہ کی حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بغیر یہ شرط لگائی، یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی جان لیا اگر وہ آزاد کر دیگئی تو ولاء بھی ان کے لیے ہوگی۔ جو شرط سے پہلے ہے ، اس سے تجھ کوئی چیز نہ روکے اور میرا خیال ہے جو انھوں نے شرط رکھی ہے جائز نہیں۔