(۲۱۷۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ قَالَ : لَقِیَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَکْبًا فَقَالَ مِنْ أَیْنَ أَقْبَلْتُمْ؟ قَالُوا مِنْ عِنْدِ ابْنِ الزُّبَیْرِ فَأَحَلَّ لَنَا أَشْیَائَ حَرُمَتْ عَلَیْنَا قَالَ مَا أَحَلَّ لَکُمْ قَالَ أَحَلَّ لَنَا أَنْ تُبَاعَ أُمَّہَاتُ الأَوْلاَدِ فَقَالَ أَتَعْرِفُونَ أَبَا حَفْصٍ عُمَرَ؟ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَإِنَّہُ نَہَی أَنْ یُبَعْنْ أَوْ یُوہَبْنَ أَوْ یُورَثْنَ یَسْتَمْتِعُ مِنْہُنَّ مَا عَاشَ فَإِذَا مَاتَ عَتَقْنَ۔ [حسن]
(٢١٧٩٦) عبداللہ بن دینار فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) ایک قافلہ کو ملیتو پوچھا : تم کہاں سے آئے ہو ؟ انھوں نے کہا : ابن زبیر کے پاس سے۔ انھوں نے مشتبہ اشیاء کو حرام قرار دے دیا ہے اس نے تمہارے لیے کیا حلال قرار دیا ؟ انھوں نے کہا کہ امہات الاولاد کو فروخت کرنا۔ ابن عمر (رض) نے فرمایا : کیا تم ابو حفص حضرت عمر (رض) کو جانتے ہو ؟ انھوں نے کہا : ہاں، فرمایا : وہ ان کو فروخت، ہبہ اور وراثت بنانے سے منع کرتے ہیں۔ مالک اپنی زندگی میں جتنا فائدہ اٹھانا چاہیے اٹھالے، اس کے مرنے کے بعد وہ آزاد ہوگی۔