hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 2611

.

سنن البيهقي

2611
Sunan Al Bayhaqi
(۲۶۱۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْبَصْرِیُّ مِنْ کِتَابِہِ أَخْبَرَنِی رِفَاعَۃُ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِیُّ أَبُو زَیْدٍ إِمَامُ الْمَسْجِدِ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ الأَنْصَارِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ رِفَاعَۃَ: أَنَّہُ صَلَّی مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْمَغْرِبَ ، فَعَطَسَ رِفَاعَۃُ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّہِ حَمْدًا کَثِیرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیہِ ، مُبَارَکًا عَلَیْہِ کَمَا یُحِبُّ رَبُّنَا وَیَرْضَی۔ فَلَمَّا صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((أَیْنَ الْمُتَکَلِّمُ فِی الصَّلاَۃِ؟))۔ قَالَ رِفَاعَۃُ: وَدِدْتُ أَنِّی عُدِمْتُ عِدَّۃً مِنْ مَالِی وَلَمْ أَشْہَدْ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- تِلْکَ الصَّلاَۃَ حِینَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَیْنَ الْمُتَکَلِّمُ فِی الصَّلاَۃِ؟))۔ فَقُلْتُ: أَنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ: کَیْفَ قُلْتَ؟ ۔ قَالَ قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّہِ حَمْدًا کَثِیرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیہِ کَمَا یُحِبُّ رَبُّنَا وَیَرْضَی۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَقَدِ ابْتَدَرَہَا بِضْعَۃٌ وَثَلاَثُونَ مَلَکًا أَیُّہُمْ یَصْعَدُ بِہَا))۔ وَرُوِیَ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِیعَۃَ قَالَ: عَطَسَ شَابٌّ مِنَ الأَنْصَارِ وَہُوَ فِی الصَّلاَۃِ فَقَالَ کَذَا فَذَکَرَ بَعْضَ مَعْنَاہُ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
(٢٦١١) (ا) معاذ بن رفاعہ انصاری اپنے باپ رفاعہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی۔ دورانِ نماز انھیں چھینک آگئی تو انھوں نے کہا : الْحَمْدُ لِلَّہِ حَمْدًا کَثِیرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیہِ ، مُبَارَکًا عَلَیْہِ کَمَا یُحِبُّ رَبُّنَا وَیَرْضَی۔ ” تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں بہت زیادہ پاکیزہ اور بابرکت اور تعریف جس کو ہمارا رب پسند کرتا ہے۔ “ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھا چکے تو پوچھا : نماز میں بولنے والا کون تھا ؟ رفاعہ (رض) نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایسا پوچھنے سے میں ڈر گیا اور میرا جی چاہا کہ اس نماز میں شریک ہونے کے بجائے میرا کثیر مال گم ہوجاتا تو مجھے اتنا افسوس نہ ہوتا جتنا نماز میں بولنے سے ہوا۔ خیر ! میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں تھا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تم نے کس طرح کے کلمات کہے تھے ؟ میں نے کہا : الْحَمْدُ لِلَّہِ حَمْدًا کَثِیرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیہِ کَمَا یُحِبُّ رَبُّنَا وَیَرْضَی۔ ” تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت تعریف جس کو ہمارا رب پسند کرتا ہے اور راضی ہوتا ہے۔ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے تیس سے زیادہ فرشتے اس کا ثواب لے کر چڑھنے میں ایک دوسرے سے پہل کر رہے تھے۔
(ب) عامر بن ربیعہ (رض) سے منقول ہے کہ انصار کے ایک نوجوان کو دورانِ نماز چھینک آئی تو اس نے اس اس طرح کہا۔۔۔ پھر اسی جیسی حدیث ذکر کی۔