(۲۸۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلاً قَالَ لِلثَّوْرِیِّ: مَنْ آلُ مُحَمَّدٍ؟ قَالَ: اخْتَلَفَ النَّاسُ فَمِنْہُمْ مَنْ یَقُولُ أَہْلُ الْبَیْتِ ، وَمِنْہُمْ مَنْ یَقُولُ مَنْ أَطَاعَہُ وَعَمِلَ بِسُنَّتِہِ۔
قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَحْسِبُہُ عَبْدَ الرَّزَّاقِ قَالَ: مَنْ أَطَاعَہُ۔
قَالَ الشَّیْخُ: وَمَنْ ذَہَبَ ہَذَا الْمَذْہَبَ الثَّانِی أَشْبَہُ أَنْ یَقُولَ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لِنُوحٍ عَلَیْہِ السَّلاَمُ {احْمِلْ فِیہَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَأَہْلَکَ} وَقَالَ {إِنَّ ابْنِی مِنْ أَہْلِی وَإِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْکُمُ الْحَاکِمِینَ قَالَ یَا نُوحُ إِنَّہُ لَیْسَ مِنْ أَہْلِکَ إِنَّہُ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ} فَأَخْرَجَہُ بِالشِّرْکِ عَنْ أَنْ یَکُونَ مِنْ أَہْلِ نُوحٍ۔
وَقَدْ أَجَابْ عَنْہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی فَقَالَ: الَّذِی نَذْہَبُ إِلَیْہِ فِی مَعْنَی ہَذِہِ الآیَۃِ أَنَّ قَوْلَ اللَّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی {إِنَّہُ لَیْسَ مِنْ أَہْلِکَ} یَعْنِی الَّذِینَ أَمَرْنَا بِحَمْلِہِمْ مَعَکَ ، لأَنَّہُ قَالَ {وَأَہْلَکَ إِلاَّ مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ مِنْہُمْ} فَأَعْلَمَہُ أَنَّہُ أَمَرَہُ بِأَنْ یَحْمِلَ مِنْ أَہْلِہِ مَنْ لَمْ یَسْبِقْ عَلَیْہِ الْقَوْلُ مِنْ أَہْلِ مَعْصِیَتِہِ ، ثُمَّ بَیَّنَ لَہُ فَقَالَ {إِنَّہُ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ} [صحیح، مصنف عبدالرزاق میں نہیں ملی۔]
(٢٨٦٩) (ا) عبدالرزاق فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی سے سنا، اس نے ثوری سے پوچھا : آل محمد کون ہیں ؟ انھوں نے فرمایا کہ لوگوں نے اس میں اختلاف کیا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اہل بیت مراد ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ جس نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کی اور آپ کی سنت پر عمل کیا۔
(ب) ابوبکر کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ عبدالرزاق نے کہا ہے : من اطاعہ
(ج) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : دوسرا مذہب زیادہ درست ہے ؛اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے کہا : { احْمِلْ فِیہَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَأَہْلَکَ } اس کشتی میں ہر چیز کے جوڑے جوڑے سوار کرو اور اپنے اہل خانہ کو بھی اور فرمایا : {إِنَّ ابْنِی مِنْ أَہْلِی وَإِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْکُمُ الْحَاکِمِینَ قَالَ یَا نُوحُ إِنَّہُ لَیْسَ مِنْ أَہْلِکَ إِنَّہُ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ } ” اے اللہ ! میرا بیٹا میرے اہل میں سے تھا اور تیرا وعدہ بھی سچا ہے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے، اللہ نے فرمایا : اے نوح ! یہ آپ کے اہل میں سے نہیں، کیونکہ اس کے عمل اچھے نہیں۔ اللہ نے نوح (علیہ السلام) کے بیٹے کو شرک کی وجہ سے نوح کے اہل سے نکال دیا۔
امام شافعی (رح) نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرمان :{إِنَّہُ لَیْسَ مِنْ أَہْلِکَ } کا وہ معنیٰ نہیں جو بیان کیا گیا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کا اہل نہیں کہ کشتی میں سوار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { وَأَہْلَکَ إِلاَّ مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ مِنْہُمْ }
” اور اپنے اہل کو کشتی میں سوار کرلو مگر جن کے بارے میں ہلاکت کا فیصلہ ہوچکا “ اس آیت سے بھی نوح (علیہ السلام) کے بیٹے کا آپ کے اہل میں ہونا واضح ہے اور کشتی میں سوار نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس کے اعمال درست نہ تھے۔