(۲۸۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ السُّوسِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ أَخْبَرَنِی أَبِی قَالَ سَمِعْتُ الأَوْزَاعِیَّ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنِی وَاثِلَۃُ بْنُ الأَسْقَعِ اللَّیْثِیُّ قَالَ: جِئْتُ أُرِیدُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمْ أَجِدْہُ فَقَالَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا: انْطَلَقَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَدَعُوہُ فَاجْلِسْ۔ قَالَ: فَجَائَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَدَخَلاَ فَدَخَلْتُ مَعَہُمَا قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَسَنًا وَحُسَیْنًا ، فَأَجْلَسَ کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا عَلَی فَخِذِہِ ، وَأَدْنَی فَاطِمَۃَ مِنْ حِجْرِہِ وَزَوْجَہَا ثُمَّ لَفَّ عَلَیْہِمْ ثَوْبَہُ وَأَنَا مِنْتَبِذٌ فَقَالَ: {إِنَّمَا یُرِیدُ اللَّہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا} ((اللَّہُمَّ ہَؤُلاَئِ أَہْلِی اللَّہُمَّ أَہْلِی أَحَقُّ))۔ قَالَ وَاثِلَۃُ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ وَأَنَا مِنْ أَہْلِکَ؟ قَالَ: ((وَأَنْتَ مِنْ أَہْلِی))۔ قَالَ وَاثِلَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: إِنَّہَا لَمِنْ أَرْجَی مَا أَرْجُو۔
[صحیح۔ اخرجہ ابن حبان ۶۹۷۶]
(٢٨٧٠) واثلہ بن اسقع لیثی (رض) فرماتے ہیں کہ میں سیدنا علی (رض) سے ملنا چاہتا تھا، لیکن وہ نہ ملے تو سیدہ فاطمہ (رض) نے فرمایا : وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ گئے ہیں، آپ نے انھیں بلایا تھا۔ آپ یہاں تشریف رکھیے، اچانک آپ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آئے اور اندر چلے گئے، میں بھی ان کے ہمراہ اندر چلا گیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حسن اور حسین (رض) کو بلایا اور ان دونوں نے اپنی گود میں بٹھایا اور فاطمہ (رض) اور ان کے خاوند کو اپنے قریب بٹھایا ۔ پھر ان پر اپنی چادر ڈالی۔ میں ایک طرف تھا پھر آپ نے فرمایا : { اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا } [الاحزاب : ٣٣] ” اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اے اہل بیت تم سے نجاست کو لے جائے اور تمہیں بالکل پاک کر دے۔ “ اے اللہ ! یہ میرے اہل ہیں ، اے اللہ ! اہل والے زیادہ حق دار ہیں۔ واثلہ (رض) کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا میں بھی آپ کے اہل میں ہوں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں تم بھی میرے اہل میں شامل ہو۔ واثلہ کہتے ہیں : آپ نے میری امیدوں سے بھی بڑھ کر بات فرمائی۔