(۳۱۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: ((إِنَّ عِفْرِیتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَیَّ الْبَارِحَۃَ لِیَقْطَعَ عَلَیَّ الصَّلاَۃَ ، فَأَمْکَنَنِی اللَّہُ مِنْہُ فَذَعَتُّہُ ، وَأَرَدْتُ أَنَّ أَرْبِطَہُ إِلَی جَنْبِ سَارِیَۃٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ حَتَّی تُصْبِحُوا ، فَتَنْظُرُوا إِلَیْہِ کُلُّکُمْ أَجْمَعُونَ)) قَالَ ((فَذَکَرْتُ دَعْوَۃَ أَخِی سُلَیْمَانَ رَبِّ {ہَبْ لِی مُلْکًا لاَ یَنْبَغِی لأَحَدٍ مِنْ بَعْدِی} قَالَ فَرَدَّہُ خَاسِئًا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ جَمِیعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۴۹]
(٣١٨٤) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عفریت نامی جن گزشتہ رات مجھے تنگ کرنے لگا تاکہ میری نماز میں خلل ڈالے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے میرے اختیار میں کردیا۔ میں نے چاہا کہ اس کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ صبح کو تم سب اس کو دیکھتے، لیکن مجھے اپنے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا یاد آئی۔ جو انھوں نے کی تھی ” قال رب اغفرلی وہب لی ملکا لا ینبغی لا حد من بعدی انک انت الوہاب۔ “ (ص : ٣٥) اے میرے رب ! مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لیے نہ ہو۔ بیشک تو ہی بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے “ تو میں نے اس کو رسوا کر کے چھوڑ دیا۔