(۳۲۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ کَعْبٍ الأَنْطَاکِیُّ وَمُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ ہُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدُوسٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ أَیُّوبَ النَّصِیبِیُّ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ خَالِدِ بْنِ دُرَیْکٍ عَنْ عَائِشَۃَ: أَنَّ أَسْمَائَ بِنْتَ أَبِی بَکْرٍ دَخَلَتْ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَعَلَیْہَا ثِیَابٌ شَامِیَّۃٌ رِقَاقٌ ، فَأَعْرَضَ عَنْہَا ، ثُمَّ قَالَ: ((مَا ہَذَا یَا أَسْمَائُ ؟ إِنَّ الْمَرْأَۃَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِیضَ لَمْ یَصْلُحْ أَنْ یُرَی مِنْہَا إِلاَّ ہَذَا وَہَذَا))۔وَأَشَارَ إِلَی وَجْہِہِ وَکَفَّیْہِ۔
لَفْظُ حَدِیثِ الْمَالِینِیِّ۔قَالَ أَبُو دَاوُدَ: ہَذَا مُرْسَلٌ۔(ج) خَالِدُ بْنُ دُرَیْکٍ لَمْ یُدْرِکْ عَائِشَۃَ۔
قَالَ الشَّیْخُ: مَعَ ہَذَا الْمُرْسَلِ قَوْلُ مَنْ مَضَی مِنَ الصَّحَابَۃِ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُمْ فِی بَیَانِ مَا أَبَاحَ اللَّہُ مِنَ الزِّینَۃِ الظَّاہِرَۃِ ، فَصَارَ الْقَوْلُ بِذَلِکَ قَوِیًّا ، وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [منکر۔ اخرجہ ابوداود ۴۱۰۱]
(٣٢١٨) (ا) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں، ان کے بدن پر شامی (باریک) لباس تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منہ دوسری طرف پھیر دیا اور فرمایا : اے اسماء ! عورت جب بالغ ہوجائے تو اس کے لیے مناسب نہیں کہ اس کا بدن دکھائی دے سوائے اس کے اور اس کے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کی طرف اشارہ فرمایا۔
(ب) امام ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث مرسل ہے؛ خالد بن دریک کی سیدہ عائشہ (رض) سے ملاقات ثابت نہیں۔
(ج) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : یہ حدیث مرسل ہے لیکن صحابہ کے جو اقوال گزر چکے ہیں کہ اللہ نے ظاہری زینت مباح قرار دی ہے تو ان شواہد کے ساتھ یہ قول قوی ہوجاتا ہے۔ وباللہ التوفیق