hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 3220

.

سنن البيهقي

3220
Sunan Al Bayhaqi
(۳۲۲۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمُزَنِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: ((إِذَا زَوَّجَ أَحَدُکُمْ خَادِمَہُ عَبْدَہُ أَوْ أَجِیرَہُ ، فَلاَ یَنْظُرْنَّ إِلَی مَا دُونَ السُّرَّۃِ وَفَوْقَ الرُّکْبَۃِ))۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: صَوَابُہُ سَوَّارُ بْنُ دَاوُدَ۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ إِذَا قُرِنَتْ بِرِوَایَۃِ الأَوْزَاعِیِّ دَلَّنَا عَلَی أَنَّ الْمُرَادَ بِالْحَدِیثِ نَہْیُ السَّیِّدِ عَنِ النَّظَرِ إِلَی عَوْرَتِہَا إِذَا زَوَّجَہَا ، وَأَنَّ عَوْرَۃَ الأَمَۃِ مَا بَیْنَ السُّرَّۃِ وَالرُّکْبَۃِ۔ وَسَائِرِ طُرُقِ ہَذَا الْحَدِیثِ یَدُلُّ وَبَعْضُہَا یَنُصُّ عَلَی الْمُرَادِ بِہِ نَہْیُ الأَمَۃِ عَنِ النَّظَرِ إِلَی عَوْرَۃِ السَّیِّدِ بَعْدَ مَا زُوِّجَتْ ، وَنَہْیُ الْخَادِمِ مِنَ الْعَبْدِ أَوِ الأَجِیرِ عَنِ النَّظَرِ إِلَی عَوْرَۃِ السَّیِّدِ بَعْدَ مَا بَلَغَا النِّکَاحَ ، فَیَکُونُ الْخَبَرُ وَارِدًا فِی بَیَانِ مِقْدَارِ الْعَوْرَۃِ مِنَ الرَّجُلِ لاَ فِی بَیَانِ مِقْدَارِہَا مِنَ الأَمَۃِ ، وَسَنَأْتِی عَلَی ذِکْرِہَا فِی الْبَابِ الَّذِی یَلِیَہُ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔ [حسن۔ اخرجہ ابوداود ۴۱۱۴]
(٣٢٢٠) (ا) عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی اپنی لونڈی کا نکاح اپنے غلام یا نوکر سے کر دے تو پھر اس (لونڈی) کے ستر کو ناف کے نیچے سے گھٹنوں کے اوپر تک ہرگز نہ دیکھے۔
(ب) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : اس روایت کا جب اوزاعی کی روایت سے موازنہ کریں تو مطلب یہ ہے کہ آقا جب اپنی لونڈی کا نکاح کسی سے کر دے تو اس کا ستر نہ دیکھے اور دوسری بات یہ حاصل ہوئی کہ لونڈی کا ستر ناف اور گھٹنے کے درمیان ہے۔
(ج) اس حدیث کے تمام طرق اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ لونڈی کو اپنے آقا کا ستر دیکھنے کی ممانعت اور خادم کا اپنی مالکن کے ستر کی طرف دیکھنے کی ممانعت نکاح کے بعد ہے۔ یہ حدیث مرد کے ستر کی مقدار کے بیان کے لیے ہے نہ کہ لونڈی کے ستر کی۔ ان شاء اللہ ہم اگلے باب میں اس کا ذکر کریں گے۔