(۳۲۷۵) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ ہُوَ ابْنُ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَسَأَلَہُ عَنِ الصَّلاَۃِ فِی الثَّوْبِ الْوَاحِدِ فَقَالَ: ((أَوَکُلُّکُمْ یَجِدُ ثَوْبَیْنِ؟))۔ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ إِلَی عُمَرَ فَسَأَلَہُ عَنِ الصَّلاَۃِ فِی الثَّوْبِ الْوَاحِدِ فَقَالَ: إِذَا وَسَّعَ اللَّہُ فَأَوْسِعُوا ، جَمَعَ رَجُلٌ عَلَیْہِ ثِیَابَہُ ، صَلَّی رَجُلٌ فِی إِزَارٍ وَرِدَائٍ ، فِی إِزَارٍ وَقَمِیصٍ ، فِی إِزَارٍ وَقَبَائٍ ، فِی سَرَاوِیلَ وَرِدَائٍ ، فِی سَرَاوِیلَ وَقَمِیصٍ، فِی سَرَاوِیلَ وَقَبَائٍ ، فِی تُبَّانٍ وَقَبَائٍ فِی تُبَّانٍ وَقَمِیصٍ، وَأَحْسِبُہُ قَالَ فِی تُبَّانٍ وَرِدَائٍ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۶۳۶]
(٣٢٧٥) ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : کیا مرد ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم میں سے ہر کسی کو دو دو کپڑے میسر ہیں ؟ پھر ایک اور شخص حضرت عمر (رض) کے پاس آکھڑا ہوا اور ان سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے مسئلہ دریافت کیا تو حضرت عمر (رض) نے کہا : جب اللہ نے تمہیں وسعت دی ہے تو تم بھی وسعت اختیار کرو۔ تمہیں چاہیے کہ اپنے کپڑے اکٹھے کر کے تہبند باندھ لو اس کے ساتھ چادر، قمیص یا جبہ پہن لے یا شلوار پہن لے اور اس کے ساتھ چادر، قمیص یا جبہ پہن لے یا جانگیہ پہن لے اور اس کے ساتھ جبہ یا قمیص پہن لے۔ ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : میرا خیال ہے کہ انھوں نے جانگیے کے ساتھ چادر کا بھی ذکر کیا۔