hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 3328

.

سنن البيهقي

3328
Sunan Al Bayhaqi
(۳۳۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَیْہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ حُصَیْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی بْنِ الْحَکَمِ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ الصَّلْتِ قَالَ: دَخَلْنَا مَعَ عَبْدِ اللَّہِ فِی الْمَسْجِدِ وَالإِمَامُ رَاکِعٌ ، فَرَکَعَ عَبْدُ اللَّہِ فَرَکَعْنَا مَعَہُ وَجَعَلَ یَمْشِی إِلَی الصَّفِّ وَنَحْنُ رُکُوعٌ ، فَمَرَّ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ فَقَالَ: صَدَقَ اللَّہُ وَرَسُولُہُ۔فَلَمَّا قَضَی الصَّلاَۃَ قَالَ: کَانَ یُقَالُ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَۃِ أَنْ یُسَلِّمَ الرَّجُلُ عَلَی الرَّجُلِ بِالْمِعْرِفَۃِ وَأَنْ تُتَّخَذَ الْمَسَاجِدُ طُرُقًا ، وَأَنْ یَتَّجِرَ الرَّجُلُ وَامْرَأَتُہُ ، وَأَنْ تَغْلُوَ الْخَیْلُ وَالنِّسَائُ ثُمَّ یَرْخُصْنَ ، ثُمَّ لاَ تَغْلُو إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ وَحَدِیثُ أَبِی بَکْرٍ مُخْتَصَرٌ۔ وَرُوِیَ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ بِنَحْوِہِ وَرَفَعَ آخِرَہُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- یَزِیدُ وَیَنْقُصُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الحاکم ۴/ ۴۹۳]
(٣٣٢٨) (ا) خارجہ بن صلت بیان کرتے ہیں : ہم عبداللہ بن مسعود (رض) کے ساتھ مسجد میں داخل ہوئے اور امام صاحب رکوع میں تھے۔ عبداللہ (رض) نے (صف سے پیچھے ہی) رکوع کیا۔ ہم نے بھی ان کے ساتھ رکوع کیا اور آپ چلتے ہوئے صف میں شامل ہوگئے اور ہم رکوع میں ہی رہے۔ ایک آدمی گزرا، اس نے انھیں سلام کہا تو انھوں نے کہا : صَدَقَ اللَّہُ وَرَسُولُہُ ۔ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ “ پھر جب انھوں نے نماز مکمل کی تو فرمایا : کہا جاتا ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں یہ بھی ہے کہ آدمی کسی آدمی کو ذاتی معرفت کی بنا پر ہی سلام کرے گا اور مسجدوں کو راستہ بنا لیا جائے گا اور مرد اور اس کی بیوی دونوں اجرت لیں گے گھوڑے اور عورتیں۔
(ب) طارق بن شہاب سے بواسطہ عبداللہ بن مسعود (رض) اسی جیسی منقول ہے اور انھوں نے اس کے آخری حصے کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچایا ہے۔ اس میں کچھ اضافہ اور کمی بھی ہے۔