(۳۳۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا ابْنُ رَجَائٍ یَعْنِی أَبَا بَکْرٍ: مُحَمَّدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَائِ بْنِ السِّنْدِیِّ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنِی کَثِیرُ بْنُ شِنْظِیرٍ حَدَّثَنَا عَطَائٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: أَرْسَلَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی حَاجَۃٍ ، فَانْطَلَقْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ وَقَدْ قَضَیْتُہَا ، فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ ، فَوَقَعَ فِی قَلْبِی مَا اللَّہُ أَعْلَمُ بِہِ ، فَقُلْتُ فِی نَفْسِی: لَعَلَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَجَدَ عَلَیَّ أَنِّی أَبْطَأْتُ عَلَیْہِ ، ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ ، فَوَقَعَ فِی نَفْسِی أَشَدُّ مِنَ الْمَرَّۃِ الأُولَی ، ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَرَدَّ عَلَیَّ فَقَالَ: أَمَا إِنَّہُ لَمْ یَمْنَعْنِی أَنْ أَرُدَّ عَلَیْکَ إِلاَّ أَنِّی کُنْتُ أُصَلِّی۔ وَکَانَ عَلَی رَاحِلَتِہِ مُتَوَجِّہًا لِغَیْرِ الْقِبْلَۃِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٣٤٨) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (غزوہ بنی مصطلق میں) مجھے ایک کام کے لیے بھیجا۔ میں کام پورا کر کے لوٹا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب نہ دیا۔ میرے دل میں اللہ جانے کیا بات آئی۔ میں نے اپنے دل میں کہا : شاید میں دیر سے آیا اس وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ناراض ہیں۔ پھر میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب نہ دیا۔ اب میرے دل میں پہلے سے زیادہ خیال آیا، پھر میں نے تیسری مرتبہ سلام کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا اور فرمایا : سنو ! میں نے اس لیے تمہارے سلام کا جواب نہ دیا کیونکہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اونٹنی پر سوار تھے، اس کا منہ قبلہ کی طرف نہ تھا بلکہ دوسری طرف تھا۔