hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 3349

.

سنن البيهقي

3349
Sunan Al Bayhaqi
(۳۳۴۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ: إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عُتْبَۃَ: أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ الْحِجَازِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْیَرٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مَیْمُونَۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ الْحَکَمِ السُّلَمِیُّ قَالَ: بَیْنَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی الصَّلاَۃِ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ: یَرْحَمُکَ اللَّہُ ، فَحَدَقَنِی الْقَوْمُ بِأَبْصَارِہِمْ ، فَقُلْتُ: وَاثُکْلَ أُمِّیَاہُ مَا لَکُمْ تَنْظُرُونَ إِلَیَّ؟ قَالَ: فَضَرَبُوا بِأَیْدِیہِمْ عَلَی أَفْخَاذِہِمْ - قَالَ - فَلَمَّا رَأَیْتُہُمْ یُسَکِّتُونِی لَکِنِّی سَکَتُّ - قَالَ - فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنَ الصَّلاَۃِ دَعَانِی ، فَبِأَبِی وَأُمِّی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- مَا رَأَیْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَہُ وَلاَ بَعْدَہُ أَحْسَنَ تَعْلِیمًا مِنْہُ ، وَاللَّہُ مَا کَہَرَنِی وَلاَ ضَرَبَنِی وَلاَ سَبَّنِی قَالَ: ((إِنَّ صَلاَتَنَا ہَذِہِ لاَ یَصْلُحُ فِیہَا شَیْئٌ مِنْ کَلاَمِ النَّاسِ ، إِنَمَّا ہُوَ التَّکْبِیرُ وَالتَّسْبِیحُ وَتِلاَوَۃُ الْقُرْآنِ))۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ الأَوْزَاعِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۵۳۷۔ ابوداود ۹۳۰]
(٣٣٤٩) معاویہ بن حکم سلمی (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ (باجماعت) نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک آدمی نے چھینک ماری تو میں نے کہہ دیا : یرحمک اللہ۔ لوگ میری طرف گھورنے لگے۔ میں نے کہا : تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں تم مجھے کیوں دیکھ رہے ہو ؟ تو انھوں نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنا شروع کردیے۔ پھر جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کروا رہے ہیں تو میں خاموش ہوگیا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلایا، آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ میں نے اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیسا استاد نہیں دیکھا جو تعلیم دینے میں آپ سے بہتر ہو۔ اللہ کی قسم ! آپ نے مجھے مارا نہ ڈانٹا اور نہ ہی برا بھلا کہا ، بلکہ صرف اتنا فرمایا : یہ نماز ہے اس میں باتیں وغیرہ کرنا جائز نہیں اس میں تسبیح، تکبیر اور تلاوت قرآن ہوتی ہے۔