(۳۳۹۷) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنِی أَبُوالزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَرْسَلَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَی بَنِی الْمُصْطَلِقِ ، فَأَتَیْتُہُ وَہُوَ یُصَلِّی عَلَی بَعِیرِہِ ، فَکَلَّمْتُہُ فَقَالَ لِی بِیَدِہِ ہَکَذَا وَأَوْمَأَ زُہَیْرٌ بِیَدِہِ ثُمَّ کَلَّمْتُہُ فَقَالَ لِی ہَکَذَا وَأَوْمَأَ زُہَیْرٌ أَیْضًا بِیَدِہِ نَحْوَ الأَرْضِ وَأَنَا أَسْمَعُہُ یَقْرَأُ یُومِئُ بِرَأْسِہِ ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: مَا فَعَلْتَ فِی الَّذِی أَرْسَلْتُکَ لَہُ؟ فَإِنَّہُ لَمْ یَمْنَعْنِی أَنْ أُکَلِّمَکَ إِلاَّ أَنِّی کُنْتُ أُصَلِّی۔ قَالَ زُہَیْرٌ: وَأَبُو الزُّبَیْرِ جَالِسٌ مَعَہُ مُسْتَقْبِلَ الْکَعْبَۃِ فَقَالَ بِیَدِہِ أَبُو الزُّبَیْرِ إِلَی بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَقَالَ بِیَدِہِ إِلَی غَیْرِ الْکَعْبَۃِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٣٩٧) سیدنا جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کسی کام کے لیے روانہ کیا اور آپ بنی مصطلق کی طرف گئے ہوئے تھے۔ میں جب (کام سے) واپس آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ اپنے اونٹ پر بیٹھے ہیں، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کرنا چاہی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کیا۔ راوی کہتے ہیں : زہیر نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا : میں نے پھر بات کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اس طرح اشارہ کیا اور زہیر نے بھی ایسے ہی اپنے ہاتھ کے ساتھ زمین کی طرف اشارہ کیا۔ جابر بیان کرتے ہیں کہ میں سن رہا تھا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پڑھ رہے تھے اور سر سے اشارہ بھی کر رہے تھے۔ جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا : جس کام کے لیے تمہیں بھیجا تھا اس کا کیا کر آئے ہو ؟ مجھے کلام سے مانع بات یہ تھی کہ میں نماز میں تھا۔ زہیر کہتے ہیں اور ابو زبیر ان کے ساتھ قبلہ رخ ہو کر بیٹھے تھے تو انھوں نے اپنے ہاتھ سے بنی مصطلق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، یعنی اپنے ہاتھ کے ساتھ غیر قبلہ کی طرف اشارہ کیا۔