(۳۴۲۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ یَعْنِی ابْنَ مِہْرَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ الْمُرَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ حَدَّثَنِی رَبِیعَۃُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ أَبِی إِدْرِیسَ الْخَوْلاَنِیِّ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ أَنَّہُ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی فَسَمِعْنَاہُ یَقُولُ: ((أَعُوذُ بِاللَّہِ مِنْکَ))۔ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ: ((أَلْعَنُکَ بِلَعْنَۃِ اللَّہِ))۔ثَلاَثًا ، وَبَسَطَ یَدَہُ کَأَنَّہُ یَتَنَاوَلُ شَیْئًا ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلاَۃِ قُلْنَا: یَا رَسُولَ اللَّہِ سَمِعْنَاکَ تَقُولُ فِی الصَّلاَۃِ شَیْئًا لَمْ نَسْمَعْکَ تَقُولُہُ قَبْلَ ذَلِکَ ، وَرَأَیْنَاکَ بَسَطْتَ یَدَکَ۔فَقَالَ: ((إِنَّ عَدُوَّ اللَّہِ إِبْلِیسَ لَعَنَہُ اللَّہُ جَائَ بِشِہَابٍ مِنْ نَارٍ ، لِیَجْعَلَہُ فِی وَجْہِی فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّہِ مِنْکَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قُلْتُ أَلْعَنُکَ بِلَعْنَۃِ اللَّہِ التَّامَّۃِ ، فَلَمْ یَسْتَأْخِرْ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ آخُذَہُ ، وَاللَّہِ لَوْلاَ دَعْوَۃُ أَخِینَا سُلَیْمَانَ لأَصْبَحَ مُوثَقًا یَلْعَبُ بِہِ وِلْدَانُ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ))۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَۃَ الْمُرَادِیِّ۔ وَقَدْ مَضَی بَعْضُ مَعْنَاہُ مِنْ حَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی مَسْأَلَۃِ قَضَائِ الْفَائِتَۃِ۔[صحیح۔ اخرجہ مسلم ۵۴۲]
(٣٤٢٦) (ا) سیدنا ابود رداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے ہم نے سنا کہ آپ نے تین مرتبہ أَعُوذُ بِاللَّہِ مِنْکَ پڑھا۔ پھر فرمایا : میں تجھ پر اللہ کی لعنت کرتا ہوں۔ یہ کلمات بھی تین بار کہے اور اپنے ہاتھ پھیلائے ، گویا کوئی چیز پکڑ رہے ہیں۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے نماز میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کچھ ایسے کلمات کہتے سنا، جو اس سے پہلے آپ نہیں کہا کرتے تھے اور ہم نے آپ کو نماز میں ہاتھ پھیلائے دیکھا ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کا دشمن ابلیس اللہ کی اس پر پھٹکار پڑے وہ آگ کا شعلہ لے کر آیا تھا، تاکہ میرے چہرے کے سامنے ڈال دے تو میں نے تین بار اعوذ باللہ منک پڑھا، پھر کہا : میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں پھر بھی وہ پیچھے نہ ہٹا تو میں نے ارادہ کیا کہ اس کو پکڑ لوں۔ اگر ہمارے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوئی تو میں اسے پکڑ کر باندھ لیتاتا کہ اہل مدینہ کے بچے اس سے کھیلتے۔
(ب) ابوہریرہ (رض) سے اس کے ہم معنی حدیث فوت ہونے والی قضاء نمازوں کے مسئلے میں گزر چکی ہے۔