(۳۵۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَقْبَلْتُ رَاکِبًا عَلَی أَتَانٍ وَأَنَا یَوْمَئِذٍ قَدْ نَاہَزْتُ الاِحْتِلاَمَ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی بِالنَّاسِ بِمِنًی ، فَمَرَرْتُ بَیْنَ یَدَیْ بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ ، وَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ ، وَدَخَلْتُ فِی الصَّفِّ فَلَمْ یُنْکِرْ ذَلِکَ عَلَیَّ أَحَدٌ۔ وَفِی حَدِیثِ الشَّافِعِیِّ: فَأَرْسَلْتُ حِمَارِی تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ الصَّفَّ فَلَمْ یُنْکِرْ ذَلِکَ عَلَیَّ أَحَدٌ۔[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۶]
(٣٥٠١) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں گدھی پر سوار ہو کر آیا اور ان دنوں میں بلوغت کے قریب تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ میں صف کے کچھ حصے کے سامنے سے گزر کر گدھی سے اترا اور گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور صف میں جا کر مل گیا۔ مجھ پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔
امام شافعی (رح) کی روایت میں ہے کہ میں نے اپنے گدھے کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہوا اور مجھ پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔