(۳۵۰۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِ حَدِیثِ الْقَعْنَبِیِّ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: بَیْنَ یَدَیِ الصَّفِّ وَقَالَ: فَلَمْ یُنْکِرْ ذَلِکَ عَلَیَّ أَحَدٌ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
وَرَوَاہُ یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ فَقَالَ: فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ۔
وَرَوَاہُ مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ فَقَالَ: فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ أَوْ قَالَ یَوْمَ الْفَتْحِ۔ وَحَجَّۃُ الْوَدَاعِ أَصَحُّ۔
وَرُوِّینَا فِی رِوَایَۃِ مَالِکٍ فِی کِتَابِ الْمَنَاسِکِ مِنَ الْمُوَطَّإِ أَنَّہُ قَالَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ: إِلَی غَیْرِ جِدَارٍ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: یَعْنِی وَاللَّہُ أَعْلَمُ إِلَی غَیْرِ سُتْرَۃٍ۔
وَذَلِکَ یَدُلُّ عَلَی خَطَإِ مَنْ زَعَمَ أَنَّہُ صَلَّی إِلَی سُتْرَۃٍ ، وَإِنَّ سُتْرَۃَ الإِمَامِ سُتْرَۃُ الْمَأْمُومِ ، فَلِذَلِکَ لَمْ یَقْطَعْ مُرُورُ الْحِمَارِ بَیْنَ أَیْدِیہِمْ صَلاَتَہُمْ ، فَفِی رِوَایَۃِ مَالِکٍ دَلِیلٌ عَلَی أَنَّہُ صَلَّی إِلَی غَیْرِ سُتْرَۃٍ ، وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٥٠٢) (ا) ایک دوسری سند سے اسی کی مثل روایت منقول ہے مگر اس میں ” بین یدی الصف “ ہے ” بعض “ کا لفظ نہیں ہے اور فرمایا کہ مجھ پر کسی نے اعتراض نہ کیا۔
(ب) یونس بن یزید نے اس حدیث کو ابن شہاب سے نقل کیا ہے کہ یہ واقعہ منیٰ میں حجۃ الوداع کے موقع پر ہوا۔
(ج) معمر ابن شہاب ; سے اس کو روایت کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع یا فتح مکہ کے دن اور حجۃ الوداع والا قول زیادہ صحیح ہے۔
(د) مؤطا کی کتاب المناسک سے ہم امام مالک (رح) کی روایت بیان کرچکے ہیں کہ انھوں نے اس حدیث میں فرمایا : ”إِلَی غَیْرِ جِدَارٍ “ دیوار کے علاوہ کی طرف۔
(ہ) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : سترے کے بغیر۔ واللہ اعلم ۔
(و) یہ بات اس آدمی کی خطا پر دلالت کرتی ہے جو یہ خیال کرتا ہے کہ آپ نے سترے کی جانب نماز پڑھی اور امام کا سترہ مقتدی کا سترہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے گدھے کے گزرنے سے ان کی نماز نہیں ٹوٹی اور امام مالک کی روایت میں اس بات کی دلیل ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سترے کے بغیر نماز پڑھی۔