(۳۵۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ یَحْیَی بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ صُہَیْبٍ قُلْتُ: مَنْ صُہَیْبٌ؟ قَالَ: رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّہُ کَانَ عَلَی حِمَارٍ ہُوَ وَغُلاَمٌ مِنْ بَنِی ہَاشِمٍ فَمَرَّ بَیْنَ یَدَیِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ یُصَلِّی فَلَمْ یَنْصَرِفْ لِذَلِکَ وَجَائَ تْ جَارِیَتَانِ مِنْ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَأَخَذَتَا بِرُکْبَتَیْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَفَرَّعَ بَیْنَہُمَا۔ یَعْنِی بِذَلِکَ فَرَّقَ بَیْنَہُمَا وَلَمْ یَنْصَرِفْ لِذَلِکَ۔ [قوی۔ تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٥٠٤) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ میں اور بنو ہاشم کا ایک بچہ دونوں گدھے پر سوار ہو کر آئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سے گزرے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے ۔ آپ نے اس وجہ سے نماز نہیں توڑی۔ بنو عبدالمطلب کی دو بچیاں آئیں اور انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھٹنوں کو پکڑ لیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں کے درمیان صلح کروا دی اور انھیں علیحدہ کردیا، لیکن اس وجہ سے نماز نہیں توڑی۔