(۳۵۰۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جِئْتُ أَنَا وَغُلاَمٌ مِنْ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَی حِمَارٍ ، وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی الصَّلاَۃِ ، فَأَرْسَلْنَا الْحِمَارَ وَدَخَلْنَا فِی الصَّلاَۃِ ، وَجَائَ تْ جَارِیَتَانِ مِنْ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَسْتَبِقَانِ ، فَفَرَجَ النَّبِیُّ -ﷺ- بَیْنَہُمَا وَلَمْ یَقْطَعْ عَلَیْہِ شَیْئًا ، وَسَقَطَ جَدْیٌ بَیْنَ یَدَیْہِ مِنْ کَوَّۃٍ فَلَمْ یَقْطَعْ عَلَیْہِ صَلاَتَہُ۔
[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ احمد ۱/ ۳۰۸]
(٣٥٠٥) سیدنا ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : میں اور بنو عبدالمطلب کا ایک لڑکا گدھے پر سوار ہو کر آئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھا رہے تھے۔ ہم نے گدھے کو چھوڑا اور نماز میں شامل ہوگئے۔ بنو عبدالمطلب کی دو بچیاں دوڑتی ہوئی آئیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے درمیان صلح کروا دی۔ لیکن اس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز نہ توڑی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سے مینڈھے کا بچہ گزرنے لگا تو بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز نہ توڑی۔